میں ایک اہلسنت فرقہ سے تعلق رکھتی ہوں اور جس لڑکے سے نکاح کرناچاہتی ہوں وہ اہل تشیع ہے لیکن وہ سارے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مانتاہے عزت کرتاہے اللہ کو مانتاہے نبی کریم ﷺ کو مانتاہے کسی صحابی کو یا خلیفہ کو برا نہیں کہتا ،قرآن بھی پڑھتاہے نماز بھی پڑھتاہے ، اس کےعقائد کفریہ نہ ہو ں تو کیا اس سے نکاح ہوجائے گا کیوں کہ میں نے سناہے کہ فتوی پورے معاشرے پر نہیں لگا سکتے ۔ بندے کے اپنے عقائد پر منحصر کرتاہے میں بس اتنا ہی پتا کرنا چاہ رہی ہوں کہ مسلمان ہے وہ بھی میں بھی ،لیکن فرقہ مختلف ہے پر مانتے ایک اللہ کو ہی ہیں کلام بھی ایک ہی پڑھتے ہیں تو کیا اس سے نکاح جائز ہے؟
فی البحرالرائق(3/233)مکتبہ رشیدیة
لا یکون الفاسق کفئا للصالحة بنت الصالحین فاعتبر صلاح الکل
بدائع الصنائع(3/465)بیروت
فلا یجوزانکاح المؤمنة الکافر،لقولہ تعالی(فلا تنکحواالمشرکین حتی یؤمنوا۔210)ولان فی انکاح المؤمنۃ الکافر خوف وقوع المؤمنۃ فی الکفر ولان الزوج یدعوھا الی دینہ،والنساء فی العادٰات یتبعن الرجال فیما یؤثروا من الافعال ، ویقلدونھم فی الدین
رد المحتار(4/237) سعید
نعم لا شک فی تکفیر من القذف السیدۃ عائشة رضی اللہ عنھا او انکر صحبۃ الصدیق ،او اعتقد الالوھیة فی علی او ان جبرئیل غلط فی الوحی ،او نحو ذلک من الکفر السریح المخالف للقرآن