بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نذر ماننے والا صدقہ کی چیز سے خود نہیں کھا سکتا

سوال

ایک بکری بیمار ہوئی مالک نے کہا اگر ٹھیک ہوئی اللہ کے نام پر خیرات کروں گا اب بکری ٹھیک ہوگئی ہے کیا اس کو مالک خود کھا سکتاہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں شخص مذکورہ نے بکری کے ٹھیک ہونے پر صدقہ کرنے کی نذر مانی اب جب بکری ٹھیک ہوگئی ہے تواسے فقراء پر صدقہ کرنا ضروری ہے ۔ اور اس کے گوشت  میں سے  خود نہیں کھاسکتے ہیں اور نہ ہی مالدار کو کھلا سکتے ہیں ۔
الدر المختار (5/ 538) رشیدیة
«من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى»قال الرافعی : قول الشارح (ووقف ) صحة النذر بالوقف من جھة انہ تصدق بالمنفعة فانه عبادۃ مقصودۃ
فتاویٰ تاتارخانیة(6/284)فاروقیة
واذاقال ان فعلت کذا فالف درہم من مالی صدقة” ففعل وھو لا یملک الا مائة درھم فانه یلزمه التصدق بما ملک وھو قدر مائة لا غیر
فتاویٰ تاتارخانیة(6/287)فاروقیة
عن محمد بن سلمة فیمن نذر بتصدق شیء ان کان کذا لایعطی اباہ وولدہ وھو بمنزلة کفارۃ الیمین
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس