اگر بیلیٹ گیم یا ہینڈبال گیم کھیلنے والے اس شرط پر کھیلیں کہ ہارنے والا فیس دے گا یا دکاندار کی طرف سے یہ شرط ہوکہ ہارنے والا فیس دیگا ۔تو یہ قمار (جوا) میں داخل ہے ، علم ہو نے کے باوجود دکاندار کا انکو ٹیبل اِجارے کے لیے دینا گناہ کے کاموں میں مدد ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ، لہذا اس کی اجرت لینا بھی دکاندار کے لیے جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر دکاندار ہرکھیلنے والے سے فیس وصول کرے یا کھیلنے والوں میں سے ہار جیت کے بغیر کوئی ایک کھلاڑی بخوشی دکاندار کوفیس دیدے تو ایسی فیس وصول کرنا جائز ہے ۔
قوله تعالي [المائدة: 2]
{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}
احكام القرآن للتهانوي(6ْ/98)ادارۃ اشرف التحقیق ۔لاہور
یامر تعالی المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وھو البر ، وترک المنکرات وھو التقوی وینھاهم عن التناصر علي الباطل والتعاون علي المآثم والمحارم
الفتاوى الهندية (5/ 324)بيروت
والجوز الذي يلعب به الصبيان يوم العيد يؤكل هذا إذا لم يكن على سبيل المقامرة، أما إذا كان فهذا الصنيع حرام، كذا في خزانة المفتين. والله أعلم
الدر المختار(6/402)سعيد
(حل الجعل ۔۔۔۔ ان شرط المال)فی المسابقة(من جانب واحد وحرم لو شرط)فیھما(من الجانبین)لانہ یصیر قمار
حاشیۃ ابن عابدین(6/402)سعيد
(قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.