1980ءمیں جھیکا گلی بازار میں ہمارے آباؤ اجداد نے دکانیں خریدیں،اس کے بعد مارکیٹ جل گئی ،دوبارہ (ایم کے ڈی اے ) والوں نے تعمیر کروائی تو اس کی رقم بھی ( ایم کے ڈی اے ) والوں کو ادا کی گئی، اب 2025 ء میں گورنمنٹ کی طرف سے آپریشن کر کے اس کو ڈیمالش کر دیا گیا۔
نمبر 1۔ اس میں ہمارے پاس چار یونٹ تھے، ہم نے تین یونٹ کرائے پر یا سر ولد ارشد ساکنہ موہڑہ ملوٹ کو کرایہ پر دیئے ہوئے تھے۔
نمبر2۔ یہ کہ اس میں گورنمنٹ سے تقریبًا کروڑ سوا کروڑ روپے لاس آف بزنس کے نام پر وصول کیا۔
نمبر3۔جبکہ ہمارا بزنس انہی دکانوں کو کرایہ پر دینا ہی تھا اور گھر اور بچوں کے اخراجات کے لیے یہی ہمارا بزنس تھا۔
نمبر4۔پھر حلفًا یہ معاہدہ ہوا تھا کہ کوئی کرایہ دار مالک کی اجازت کے بغیر لین دین نہ کریگا اس معاہدہ میں یا سر ولد ارشد موجود تھا۔
نمبر5۔حلفًا معاہدہ کی پاسداری نہ کی گئی۔ نمبر6۔ اور یہ کہ اس میں جو ایک دکان کےکرایہ دار تھے وہ گورنمنٹ سے لاس آف بزنس بنوانے گئے ،تو گورنمنٹ نے ان سے کہا کہ مالک سے بیان حلفی لکھوا کر لائیں اور وہ لکھوا کر لے گئے۔ جبکہ یاسر ولد ارشد کے اس فعل سے مالک دکان بالکل لاعلم رہے۔
نمبر7۔تقریبًا آپریشن سے میں 20 دن قبل مالک دکان کو گورنمنٹ کی طرف سے یہ آفر آئی کہ آپ آئیں اور اپنی مرضی کا بینیفٹ لے کر جائیں، لیکن حلفًا معاہدے کی وجہ سے اور اپنی پراپرٹی نہ دینے کی وجہ سے آفر کوٹھکرا دیا اور پھر گورنمنٹ نے کرایہ دار کو استعمال کر کے آپریشن کی راہ ہموار کی۔
نمبر8۔ حلفًا معاہدے کی گواہی موجود ہے۔ نمبر9۔ہماری دکان کے ساتھ ایک دکان تھی جس کا لاس آف بزنس بھی مالک بنا ہےاور دیگر کئی مالکان کالاس آف بزنس بھی بنا ہے۔
نمبر10۔یہ کہ اس وقت دکانوں کی مالیت تقریبًا آٹھ کروڑ رہی تھی اور مالک کو ایک روپیہ بھی نہ ملا ہے۔
سوال جورقم یا سر ولدارشد نے لی ہے، آیا اس پر یا سر ولدار شد کا حق بنتا ہے یا مالک کا ؟ ہم نے پانچ سال کے لیے 72,50,000 ( بہتر لاکھ پچاس ہزار روپے ) کے عوض تین دو کا نیں یا سر ولدار شد کو کرائے پر دی تھیں ۔ جب مارکیٹ ڈیمالش ہوئی تو اس وقت دو سال تین ماہ کی مدت گزر چکی تھی، بقیہ دو سال نو ماہ کا عرصہ باقی تھا، یا سر ولدار شد یہ مطالبہ کرتا ہے کہ دو سال نو ماہ کا بقیہ کرایہ واپس دیا جائے ۔جبکہ تمام مالکان اور کرایہ داران کے درمیان یہ معاہدہ ہوتا ہے تو دکان خالی کرنے کی صورت میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہ کریں گےاور نہ اسی حالت میں دوکان مالک کے حوالے کرنے کا پابند ہے،جبکہ یا سر ولد ارشد نے گورنمنٹ سے لین دین کر کے آپریشن کے لیے راہ ہموار کر دی۔اور معاہدے کے مطابق دکان مالک کے حوالے نہ کی، ہم یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کے مطابق دکان مالک کے حوالے کرتا تو باقی دو سال نو ماہ کے کرائے کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب تھا۔ سوال یہ ہے کہ حلفًا معاہدے کے باوجود گورنمنٹ سے لین دین کیا ،گورنمنٹ کے لیے آپریشن کی راہ ہموار کی اور دکان کو مالک کے حوالے بھی نہ کیا۔ اب یا سر ولد ارشد کا یہ مطالبہ کہ دو سال نو ماہ کا بقیہ کرایہ واپس دیا جائے یہ درست ہے یا غلط؟
حکومت کی جانب سے گرائی گئی دکانوں کا حقدار
نمبر(۱) سوال میں ذکر کردہ تفصیلات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرایہ دار اور مالک کے درمیان یہ معاہدہ طے ہوا تھا کہ کوئی کرایہ دار بھی مالک کی اجازت کے بغیر متعلقہ ادارہ کے ساتھ لین دین نہیں کرے گا اور کرایہ دار نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر تے ہوئے مالک کے علم میں لائے بغیر متعلقہ ادارہ سے ساز باز کر کے تمام کاروباری نقصان کا عوض خود لے کر دکانیں مسمار کرنے کی راہ ہموار کی ،اس کا یہ فعل سراسر ناجائزاور معاہدہ کے خلاف تھا ،نیز قوانین کے مطابق نقصان کا حق دار مالک تھا اور کرایہ دار نے معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے نقصان کی رقم بھی خود لے لی تو یہ رقم چونکہ مالک کا حق تھا اس لیے کرائے دار کیلیے یہ رقم مالک کو واپس کرنا ضروری ہے ،کرایہ دار کیلیے اس رقم کا استعمال کرنا ہر گز جائز نہیں۔
نمبر(۲) نیز کرائے داری کے پانچ سالہ معاہدے کا شرعی حکم یہ ہے کہ جتنا عرصہ(دو سال تین ماہ ) دکاندار نے اس میں گزارا اس عرصہ کا کرایہ پیشگی رقم میں سے حقیقی کرایہ کی مد میں محسوب کرنا آپ کا حق ہے ،باقی بچ جانے والی رقم کرایہ دار کو واپس کرنا ضروری ہے ۔(ماخذہ امداد الفتاویٰ:۷/۴۱۳،ط:نعمانیہ)
البتہ اگر دکان دار (کرایہ دار ) متعلقہ ادارہ سے کاروباری نقصان کی مد میں لی گئی رقم آپ کو نہیں دیتا تو آپ اس کے پیشگی دیے گئے کرائے کی رقم میں سے کاروباری نقصان کی رقم منہا کر سکتے ہیں ۔
ملحوظہ: جس جگہ یہ دکانیں ہیں اس جگہ کی حیثیت کیا ہے ؟کیا آپ کے والد یا دادا یہ جگہ سرکار سے خرید چکے تھے؟ جس کے نتیجے میں اس جگہ کی ملکیت دائمی طور پر آپ کے والد یا دادا کے نام منتقل کر دی تھی ؟یا یہ زمین لیز پر لی گئی تھی اور اب لیز کی مدت ختم ہو گئی اورمتعلقہ ادارہ مدت ختم ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو منہدم کر رہی ہے ؟اور ان تمام صورتوں میں کرایہ دار نے متعلقہ ادارہ سے ساز باز کر کے پیسے لے کر آپریشن کی راہ ہموار کی ، ان تمام امور کی مکمل اور قطعی وضاحت کے بعد جواب کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے ۔
كما قال الله تعالى
{ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ } [البقرة: 188]
مسند أحمد (19/ 376)
عن أنس بن مالك قال: ما خطبنا نبي الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: ” لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27)
(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي
فتح القدير (9/ 147)
قال: (وتفسخ الإجارة بالأعذار) عندنا
الفتاوى الهندية (4/ 458)
إن كانت الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض
وفي شرح المجلة (2/ 560)
لو شرط تعجيل الأجرة على المستأجر دفعها قبل تسليم المأجور لكنها لا تتقرر عليه إلا بعد إسلامه إياه، فتقرر عليه الأجرة شيئاً فشيئاً إلى أن يستوفي المنفعة و لو بالتمكن منها في جميع المدة المعقود عليها … و لو عجلها ثم بعد مضي نصف المدة المعقود عليها مثلاً انتقضت الإجارة رجع بحسابه ما بقي من المدة