بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

یکطرفہ عدالتی خلع کی حیثیت

سوال

ہم میاں بیوی کی آپس میں تلخ   کلامی ہوئی جس پر غصہ میں آکر میری بیوی نے میرے علم میں لائے بغیر عدالت سول جج فیملی کورٹ لاہور میں خلع کا دعوی کر دیا۔کیس چلتا رہا جس کا مجھے کوئی نوٹس وصول نہ ہوا اور نہ ہی مجھے اس کیس کے بارے میں کوئی پتہ چلا، جس کا یک طرفہ فیصلہ ہو گیا اور کورٹ نے فیصلہ میری بیگم کے حق میں کر دیا۔تقریباً اس فیصلہ کے 40 دن بعد میرے سسر نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ تمہاری بیوی سے ملنے لاہور جانا ہے۔جس  پر میں ، میرا سالا اور سسرلاہور آگئے میرے سالے کی رہائش گاہ پر۔ یہاں پہنچ کر میرے سسر نے میری بیوی سے اپنے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ ہم گھر والے آپ میاں بیوی کی جو تلخ کلامی ہوئی ہے اسے ختم کرانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ملنا چاہتے ہیں  جس پر میری بیگم نے میرے سسر سے کہا کہ میں تو  خلع لے چکی ہوں اور اپنی عدت پوری کر رہی ہوں ۔ اس دوران میں میرا سسر اور میرا سالا میری بیگم کی رہائش گاہ پر گئے اور ساری صورتحال معلوم کی تو تب مجھے پتہ چلا کہ میری بیوی خلع لے چکی ہے۔ جس پر میرے  سسراور میرے سالے نے میری بیگم کو سمجھا یا تو میری بیگم کہتی کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے  اور اب اگر یہ خلع ختم ہو سکتا ہے تو میں یہ خلع  ختم کرنے کو تیار ہوں ۔ جس پر میں نے وکلاء حضرات سے اس خلع کے  بارے معلومات حاصل کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ خلع ختم ہو سکتا ہے اور اس کی معیاد 3 ماہ ہوتی ہے۔ اور ابھی آپکے 10 دن ہوئے ہیں ۔ آپ آکر دونوں میاں بیوی حج کے سامنےبیان دے دیں اور راضی نامہ کر لیں تو یہ خلع ختم ہو جائے گا جس پر میری بیوی راضی ہو گئی ۔ اس دوران میں نے جامعہ رشید یہ ساہیوال کے مفتی صاحب سے رابطہ کیا، ساری صورتحال بتانے اورسننے کے بعد انہوں نے کہا کہ اس خلع کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی آپ کا نکاح فاسدہوا ہے  آپ ازواجی تعلقات بھی قائم کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے ازواجی تعلقات قائم کرلیے اور شریعت محمدی کی روح سے ہم نے یہ جو ازواجی تعلقات قائم کئے ہیں کیا یہ صحیح عمل تھا یا کہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے ؟ میں نے جو کچھ بھی بیان کیا خدا کو حاضر ناظر جان کر بیان کیا حرف بہ حرف درست ہے اور اس میں کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے۔

جواب

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں خلع کے درست ہونے کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے کہ عدالت نے یک طرفہ خلع کیا ہے اور اس سلسلے میں شوہر کو کسی قسم کی اطلاع نہیں دی اور نہ ہی شوہر نے خلع پر رضامندی کا اظہار کیا ہے نیز عورت کی جانب سے گھر سے نکالے جانے اور خرچہ نہ دینے کے الزام سے بھی شوہر منکر ہے تو ایسی صورت میں عدالت کا کیا ہوا خلع شریعت مطہرہ میں معتبر نہیں ہے بلکہ عدالتی حکم کے بعد بھی یہ بدستور میاں بیوی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ میاں بیوی والے تعلقات قائم کر سکتے ہیں اور اس پر وہ گناہ گار نہیں ہونگے۔
قال اللہ تعالی
{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِه} [البقرة: 229]
أحكام القرآن للجصاص، احمد بن علی الرازی(م:370ھ) (1/ 539)قدیمی کتب خانہ
 لو كان الخلع إلى السلطان شاء الزوجان أو أبيا إذا علم أنهما لا يقيمان حدود الله لم  يسألهما النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك ولا خاطب الزوج بقوله “اخلعها” بل كان يخلعها منه ويرد عليه حديقته۔
المبسوط للسرخسی،محمد بن احمد(م:483ھ)(6/202)رشیدیۃ
والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی۔
 أحكام القرآن لأحمد بن علي الجصاص(م: 370هـ)(3/152)إحياءالتراث
فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس