صورت مسئولہ میں شوہر کے دو مرتبہ طلاق ہے طلاق ہے کہنے سے اس کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوگئیں، اب شوہر عدت کےدوران اس سے رجوع کرسکتا ہے اور اگر عدت گزر جائے تو باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض نیا نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں لیکن نکاح بحال ہونے کے بعد شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہے لہذا شوہر آئندہ کے لیے خیال رکھے کہ اگر ایک طلاق بھی بیوی کے دے گا تو ان کے درمیان حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی۔
قال اللہ تعالیٰ
ﵟٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ ﵞ [البقرة: 229]
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 254)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها۔
الفتاوى الهندية (1/ 470)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية