بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

یوگا ورزش کرنے کا شرعی حکم

سوال

یوگا کرنے کا کیا حکم ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے اس کے بارے میں راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ یوگا ورزش کے پیچھے بہت سے ہندوانہ باطل عقائد کارِفرما ہیں۔اور اس میں متعدد شرعی مفاسد بھی پائے جاتے ہیں،ان خرابیوں کی موجودگی میں یوگا ورزش کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔تاہم اگر کوئی شخص اپنے جسم کو تندرست رکھنے کے لئے یا کوئی ڈاکٹر کسی مریض کی علاج کے لئے یوگا تجویز کرے تو مندرجہ ذیل شرعی امور کا لحاظ رکھ کر ان خرابیوں سے بچتے ہوئے یوگا کرے تو اس کی گنجائش ہے۔
نمبر1۔ہندوؤں سے یوگا ورزش نہ سیکھی جائے۔ 2۔اس میں عبادت کی نیت شامل نہ ہو۔ 3۔غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا رخ نہ کیا جائے۔ 4۔یوگا کرنے والے کے ذہن میں اس کے پسِ منظر میں موجود ہندوانہ عقائد و خیالات میں سے کوئی خیال اور شرکیہ عقیدہ نہ ہو۔ 5۔یوگیوں کا مخصوص لباس نہ پہنا جائے۔ 6۔سورج طلوع اور غروب کے اوقات میں یہ ورزش نہ کی جائے(یہ دو اوقات ہندؤں کی عبادت کا وقت ہوتا ہے)۔ 7۔یوگا ورزش کی ابتدا ورزش کے دوران یا اختتام پر پڑھے جانے والے اسلامی تعلیمات کے خلاف مضامین پر مبنی مخصوص کلمات ادا نہ کئے جائیں۔ 8۔ورزش کے دوران ہندوؤں کے طریقہ عبادت کی نقالی نہ کی ہو۔ 9۔ورزش میں اس قدر انہماک نہ ہو کہ فرائض وواجبات میں کوتاہی واقع ہو۔ 10۔ورزش مرد عورت کے مخلوط ماحول میں نہ ہو۔ 11۔ورزش کے دوران ستر ڈھکنے کا مکمل اہتمام ہو۔ 12۔ورزش جسمانی لحاظ سے مضر نہ ہو(مثلاً:سورج کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا)۔ 13۔محض جسم کو تندرست رکھنے کی نیت سے کی جائے،یوگا میں مہارت حاصل کرنااور اس کے ذریعے خلاف عادت افعال پر قادر ہونے کے در پہ نہ ہو۔14۔یوگا میں بہتری کے لئے حلال چیزوں سے پرہیز کا التزام نہ کرے۔
قال الله تعالى: سوره  انعام (آية 119)
ومالكم الا تاكلو مما ذكر اسم الله عليه وقد فصل لكم ما حرم عليكم۔۔۔۔
روح المعانى،آية:119 (8/ 14) دار إحياء التراث العربي – بيروت
وسبب نزول الآية على مقاله الامام أبو منصور أن المسلمين كانوا يتحرجون من أكل الطيبات تقشفا وتزهدا فنزلت وقد فصل لكم ما حرم عليكم۔
تفسير الرازي ،سورة المؤمنون ،الآيات 1الى 11(23/ 261) دار إحياء التراث العربي 
قَوْلُهُ تَعَالَى: وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ وَفِي اللَّغْوِ أَقْوَالٌ: أَحَدُهَا: أَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ كُلُّ مَا كَانَ حَرَامًا أَوْ مَكْرُوهًا أَوْ كَانَ مُبَاحًا، وَلَكِنْ لَا يَكُونُ بِالْمَرْءِ إِلَيْهِ ضَرُورَةٌ وَحَاجَةٌ
روح المعانى (3/ 120) دار إحياء التراث العربي – بيروت
الصحيح أن كل ما عده العرف تعظيما وحسبه المسلمون موالاة فهو منهى عنه ولو مع أهل الذمة لا سيما إذا أوقع شيئا فى قلوب ضعفاء المومنين۔
صحيح مسلم (4/ 2052) دار إحياء التراث العربي – بيروت
عن أبي هريرة  رضي الله  تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المؤمن القوي، خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء، فلا تقل لو أني فعلت كان كذا وكذا، ولكن قل قدر الله وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشيطان۔
رد المحتار على الدر المختار (1/ 380) دار الفكر-بيروت
وفي التتارخانية يكره للمسلم الدخول في البيعة والكنيسة، وإنما يكره من حيث إنه مجمع الشياطين لا من حيث إنه ليس له حق الدخول اهـ قال في البحر: والظاهر أنها تحريمية؛ لأنها المرادة عند إطلاقهم، وقد أفتيت بتعزير مسلم لازم الكنيسة مع اليهود۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 209) دار الكتاب الإسلامي
وفی فَتْحِ الْقَدِيرِ وَيُكْرَهُ الدَّفْنُ فِي الْأَمَاكِنِ الَّتِي تُسَمَّى فَسَاقِي اهـ. وَهِيَ مِنْ وُجُوهٍ: الْأَوَّلُ عَدَمُ اللَّحْدِ الثَّانِي دَفْنُ الْجَمَاعَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ لِغَيْرِ ضَرُورَةٍ الثَّالِثُ اخْتِلَاطُ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ مِنْ غَيْرِ حَاجِزٍ كَمَا هُوَ الْوَاقِعُ فِي كَثِيرٍ مِنْهَا .۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس