بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ہدیہ میں بعض حصہ پر قبضہ کرنا کل کا ھبہ مکمل ہونے کے لیے کافی نہیں ہے/مشترک ترکہ کی تقسیم نقصان دہ ہو تو کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے؟

سوال

ایک شخص عزیز الر حمن نے اپنے ورثاء میں پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں۔اس نے اپنے بیس مرلہ تیار مکان میں سے سولہ مرلہ کا پانچواں حصہ اپنے بیٹے محمد ارشد جاوید کی شادی کے وقت اس کی ہونے والی بیوی سعدیہ عنبر کو ازدواجی زندگی کےتحفظ کی شرائط میں سےنکاح کابین نامہ میں قطعی ملکیت کر کے لکھ دیا۔اور بغیر پیمائش و حد بندی کے قبضہ دیا۔ یعنی مکان کے جس حصہ میں سعدیہ عنبر کو بیاہ کر لایا گیا پیمائش کے بعد اسی جگہ پر اس کا حصہ ہو گا۔پانچ ہزار روپے حق مہر مقرر ہوا۔سوال یہ ہے کہ
نمبر1. ازروئے شریعت بغیر پیمائش و حد بندی سعدیہ عنبر اس حصہ کی مالک ہے کہ نہیں؟
نمبر 2.بیس اور سولہ مرلہ کے تناظر میں تمام ورثاء میں مکان کی تقسیم کیسے ہو گی؟
نمبر3.مکان کے مشرقی جانب شمال سے جنوب کی طرف دو دکانیں، باتھ ،مین گیٹ اور چھوٹا گیٹ گھر کے تمام افراد کے لیے ہے۔شمالی جانب تمام کمرے آگے برآمدہ اور آگے صحن ہے۔سعدیہ عنبر کو دکانوں اور باتھ سے منسلک کمرہ آگے برآمدہ آگے صحن قبضہ بغیر حد بندی و پیمائش دیا گیا ۔ سعدیہ عنبر کے حصہ کی صر ف نشاندہی کےلیے نکاح کا بین نامہ میں “مین گیٹ والا نہیں مین گیٹ کے ساتھ والے” لفظ والد صاحب نے لکھوائےتھے۔اب وہ اپنے کمرہ آگے برآمدہ کو اپنا حصہ مانتی ہے ،آگے صحن کے بجائے مین اور چھوٹے گیٹ کے آگے خالی جگہ کو صحن قرار دیتی ہے۔ازروئے شریعت اس کا فیصلہ کر دیں۔

جواب

ہدیہ

فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ منقولی اور غیر منقولی اشیاء میں ہبہ کی تکمیل و درستگی کے لیے ضروری ہے کہ موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا جا رہا ہے) کو ہدیتاً دی جانے والی چیز اپنے تمام تصرفات سے خا لی کر کے باقاعدہ تقسیم کر کے مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے قبضہ میں دے دی جائے۔ اگر زمین ہو تو اس کا محلِ وقوع حدودِ اربع کی تعیین کے ساتھ کر کے حوالہ کر دیا جائے ۔
صورتِ مسئولہ میں کابین نامہ اور سوال کے مطابق آپ کے والد نے شادی کے موقع پر” سعدیہ عنبر” کو سولہ مرلہ کا پانچواں حصہ مین گیٹ کے ساتھ والے رہائشی کمروں میں نشاندہی کر کے ہبہ کیا تھا اور “سعدیہ عنبر” نے آپ کے والد کی زندگی میں اس میں سے جس حصہ(کمرہ ،آگے برآمدہ ،آگے صحن) پر قبضہ و رہائش اختیار کر لی تھی، اس حصہ(کمرہ،آگے برآمدہ ،آگے صحن) کے بقدر ہبہ درست ہو چکا ہے اور وہ جگہ شرعاً اس کی ملکیت ہو چکی ہے ۔(مستفاد ازامداد الفتاویٰ:۸/۴۲،ط:نعمانیہ)
اب اگر وہ جگہ (جہاں “سعدیہ عنبر “نے رہائش اختیار کی) کابین نامہ میں متعین رقبہ سے کم ہے، تو اس صورت میں “سعدیہ عنبر” کے لیے مین گیٹ کے ساتھ والی زمین یا اس کے علاوہ مزید کسی اضافی جگہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، کیونکہ اس کی مقبوضہ جگہ کے علاوہ جگہ شرعاً والد کا ترکہ ہونے کی حیثیت سے تمام ورثاء میں مشترک ہے۔
مین گیٹ کے ساتھ والی زمین بھی چونکہ مشترک ہے تو اس کو تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کر لیا جائے۔ اگر تقسیم کرنے میں نقصان ہو اور مشترک رکھ کر اس پر دکانیں وغیرہ بنانے میں سب کا فائدہ ہے،نیز تمام ورثاء عاقل بالغ، دلی رضامندی کے ساتھ اس کو مشترک رکھنے کی اجازت دیتے ہوں تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے، لیکن ملکیت اور نفع کی تقسیم اپنے اپنے ملکیتی حصہ کے تناسب سے تحریری طور پر طے کر لی جائے تاکہ بعد میں ملکیتوں کا لم سم اشتراک جھگڑےاور فساد کا سبب نہ بنے۔(ماخذہ: تبویب فتاویٰ دارالعلوم کراچی:۹۰ /۵۸۱)
سنن الدارقطني (5/ 392)
عن محمد بن أبي بكر ،عن أبيه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:  «لا تعصبة على الميراث إلا ما حمل القسم
الدر المختار (5/ 690)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل
الدر المختار (5/ 688)
و( شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)
المبسوط للسرخسي (12/ 66)
فإن المؤثر: الشيوع عند القبض، لا عند العقد
المبسوط للسرخسي (12/ 71)
 وقد بينا أنه لو وهب شيئا مشاعا ثم قسم، وسلم مقسوما: تمت الهبة
الفتاوى الهندية (4/ 378)
ولو وهب الجميع وسلم متفرقا جاز، كذا في التتارخانية
بدائع الصنائع (7/ 19)
فإن كان في تبعيضه ضرر بكل واحد منهما فلا تجوز قسمة الجبر فيه، وذلك نحو اللؤلؤة الواحدة والياقوتة … والخيمة والحائط والحمام والبيت الصغير
ملکیتِ  زمین اور اس کی تحدید(ص:۱۳۹) دارالعلوم کراچی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس