بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گھر کی تعمیر کےلیے سرمایہ لینے کی جائز صورت

سوال

مجھے ایک مسئلہ کے سلسلے میں راہ نمائی درکار ہے ۔ میری ایک جگہ ہے جو خالی ہے اس کو تعمیر کرنے کے لیے رقم کی ضرورت ہے اور جو صاحب رقم فراہم کررہے ہیں وہ اس رقم پر نفع بھی لینا چاہتے ہیں ،لیکن اس نفع کو لینے کی کچھ شرائط ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ ر ہا ہوں
نمبر1-آج جو بھی تعمیر کا ریٹ ہے مثلاً: 4،000 پر فٹ میں آپ کی جگہ تعمیر کرنے کےلیے آپ کو رقم فراہم کردیتاہوں میں آپ سے 5،000 روپے پر سکوئیر فٹ لوں گا۔
نمبر2- اگر اس جگہ پر پہلے سے کچھ تعمیر ہوئی ہے مثلاً:25٪ یا30٪ تو بقایا کام کو مکمل کرنے کے لیے میں آپ کو رقم فراہم کر دوں گا ۔ لیکن میں 1000 روپے یا جو بھی سکوئیر فٹ آپس میں طے ہوں گے وہ آپ مجھے ادا کریں گے نفع کے مد میں ۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ معاملہ (یعنی قرض کے طور پر کسی کو رقم فراہم کرکے اس پر اضافی رقم وصول کرنا) شرعاً ناجائز ہے اور سود کے زمرے میں داخل ہے جس سے اجتناب ضروری ہے ۔
البتہ اس کے متبادل کے طورپر یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ آپ اس کے ساتھ استصناع کا معاملہ کرلیں کہ وہ پورا گھر آپ کو طے شدہ اوصاف ومعیار کے مطابق تعمیر کر کے دے اور اس کی قیمت بھی فریقین باہمی رضامندی سے طے کرلیں اور قسطوں کی صورت میں اس کی ادائیگی کی تفصیل بھی طے کرلیں۔
السنن الكبرى لأبي بكرالبيهقي (5/573)دا الكتب العلمية
 عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا “۔
فقہ البیوع(1/587)معارف القران
الاستصناع فی البنایات
وقد تعورف فی زماننا الاستصناع فی البنایات؛  ولہ صورتان
الصورۃ الأولی: أن تکون الأرض ملکا للمستصنع،  ویطلب مالک الأرض من المقاول أن یبنی علیہا عمارۃً حسب تصمیمٍ معین إن کانت المقاولۃ لعمل البناء فقط،  والمواد کلہا من قبل صاحب الارض،  فالعقد لیس استصناعا، وإنما ہو إجارۃ تنطبق علیہا أحکام إجارۃ الأشخاص، وأما إذا کانت المقاولۃ تشمل عمل البناء  مع توفیر المواد من قبل المقاول، فہو استصناع۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس