آج کل تصاویرکارواج عام ہورہاہےگھریلو استعمال کی بعض اشیاءپراورخصوصاًبچوں کے کھلونوں پرکارٹون اورجاندار اشیاء کےخاکےبنےہوئےہوتےہیں توبچوں کےلئے ان کھلونوں کوگھرپر رکھنے سے نمازمیں کوئی خلل واقع ہوتاہےیانہیں؟ اور ان خاکوں کوہٹانےسے نقصان ہوجاتاہے اور پیسوں کاضیاع بھی، اوراصل مقصدبچوں کوبہلاناہوتاہے، ان کوہٹانےسےبچےاس کوقبول نہیں کرتےاوراس کی طرف راغب بھی نہیں ہوتے، حدیث میں جس تصویرکی ممانعت آئی ہےاس کامصداق کیاہے؟
انسان یاکسی جانورکی شکل میں ڈھال کربنائی گئی مجسم گڑیا،کھلونےیا ایسے کھلونےجن پرجانداراشیاء کی تصاویراس طرح سے واضح ہوں کہ اگروہ زمین پررکھی جائیں اورمتوسط بینائی والاآدمی کھڑے ہوکر دیکھےتوتصاویرکےاعضاءکی تفصیل دکھائی دے، ان کا استعمال اورگھرمیں رکھناجائزنہیں ہے، جس کمرےیاجگہ میں ایسی تصاویرہوں وہاں نمازپڑھنامکروہ تحریمی یعنی ناجائز ہے۔ البتہ اگرعام غیر مجسم کھلونوں پربنی ہوئی تصاویراس قدرواضح نہ ہویا سرکٹی ہوئی تصویرہو یاچہرہ کے اعضاء مٹے ہوئے ہوں توان سے کھیلنا جائز ہے اور ان کےکمرےمیں موجودہونےکی وجہ سےنمازمیں کوئی فرق نہیں پڑےگا۔
واضح رہےکہ جب مجسم یا غیر مجسم تصاویروالے کھیلونےکااستعمال ناجائز ہے توان کی خریداری سےبچناضروی ہےاوربچوں کےلیے غیرمصورکھلونےمثلاً گاڑی،جہازوغیرہ کی شکل والےکھیلونے خریدلیں،بچوں کی تربیت کابھی یہی تقاضاہےکہ ان کو تصاویر والےکھلونے خرید کر نہ دیئےجائیں۔ نیزیہ سمجھنابھی ضروری ہےکہ مالی نقصان کی وجہ سےناجائزچیزکی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تاہم اگرغیرمجسم تصاویرہوں توان کےچہرےپرقلم یارنگ پھیردینےسےکراہت ختم ہوجائیگی۔
بہشتی زیورمدلل ومکمل حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی(حصہ ششم /ص:377)مکتبہ عمرفاروق
(مندرجہ بالا حدیثوں)سےمعلوم ہواکہ بعض لڑکیاں یاعورتیں جوتصویردارگڑیاں بناتی ہیں یاایسی گڑیاں بازارسےمنگاتی ہیں اورکھلونےمٹی کےیا مٹھائی کےبچوں کےلیےمنگادیتی ہیں یہ سب منع ہیں ۔اپنےبچوں کواس سے روکنا چاہئے اور ایسےکھلونے توڑ دینا چاہئیں اورایسی گڑیاں جلادینی چاہئیں۔(مزیدتفصیل جاننے کےلیے دیکھئے:رسالہ تصویرکےشرعی احکام، جواہرالفقہ (7/246تا268)دارالعلوم کراچی وفتاوی محمودیہ(19/503)فاروقیہ)۔