بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فروخت کی گئی گندم کی مقدار مجہول ہونے کی وجہ سے فریقین کا آپس میں صلح کرنا

سوال

ایک مدرسہ جس کو گندم وغیرہ بطور عشر کے ملتی ہے،تو وہ اس میں سے کچھ گندم فروخت بھی کرتے ہیں ،اب زید ان سے گندم خریدنے گیا تو انہوں نے فی کلو ریٹ بتا کر بغیر تولے گندم دے دی اور کہا کہ چونکہ اس میں کوڑا کَرکٹ ہے ،اسی لیے آپ اسے گھر لے جا کر صاف کر لیں اور پھر تول کر ہمیں فی کلو طے شدہ ریٹ کے حساب سے پیسے دے دیں ،زید گندم گھر لے گیا اور اس کے گھر والوں نے صاف کرنے کے بعد تولے بغیر گندم اپنے مکئی کے دانوں کے ساتھ ملا کر پسوا دی اب سوال یہ کہ یہ سودا کرنا ٹھیک تھا یا نہیں؟ نیز اب اس گندم کی مقدار کا بھی معلوم نہیں کہ کتنی تھی تو مذکورہ معاملے میں اب اس کی قیمت کیسے لگائی جائے۔؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ خرید و فروخت کا معاملہ شرعاًفاسد ہے اور فریقین پر توبہ و استغفار لازم ہے،نیز چونکہ مال مخلوط ہو چکا اور فروخت کی گئی گندم کی مقدار معلوم کرنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی اس لیے محتاط اندازے کے مطابق باہمی رضامندی سے صلح کے طور پر کسی ایک مقدار پر فریقین متفق ہو جائیں اور اس حساب سے مشتری بائع کو گندم کی قیمت ادا کردے ۔
:كما قال الله تعاليٰ
وَالصُٓلحُ خَير  (النساء /128)
أحكام القرآن (2/ 355) دار الكتب العلمية بيروت
وقوله تعالى: {والصلح خير} قال بعض أهل العلم: “يعني خير من الإعراض والنشوز “; وقال آخرون: “من الفرقة”. وجائز أن يكون عموما في جواز الصلح في سائر الأشياء إلا ما خصه الدليل, ويدل على جواز الصلح عن إنكار والصلح من المجهول۔
:رد المحتار(4/ 514) دار الفكر
ومن باع صبرة طعام كل قفيز بدرهم إلخ البيع بالرقم فاسد؛ لأن فيه زيادة جهالة تمكنت في صلب العقد وهي جهالة الثمن برقم لا يعلمه المشتري، فصار بمنزلة القمار۔
:الفتاوى الهندية (4/ 349) دار الفكر
فإن كان المخلوطان أحدهما حنطة والآخر شعير فإن لهما أن يتفقا على شيء، فإن لم يتفقا على شيء يقوم المخلوط وضرب صاحب الحنطة بقيمة الحنطة مخلوطا بالشعير وضرب صاحب الشعير بقيمة الشعير غير مخلوط بالحنطة، كذا ف الجامع، والله أعلم۔
:المحيط البرهاني (6/ 335) دار الكتب العلمية
ولو اختلط الحادث بالموجود، فإن كان يعرف الحادث فالعقد صحيح على حاله، ولو اختلط الحادث بالموجود، فإن كان قبل التخلية فسد البيع؛ لأنه تعذر التسليم بسبب الاختلاط فيعتبر بما لو تعذر بسبب الهلاك. وإن كان بعد التخلية لا يفسد العقد؛ لأن تمام العقد بالتسليم وقد وجد فانتهى نهايته فلا يفسد بالاختلاط وقد اختلط ملك أحدهما بالآخر، فإن كانا شريكين فيه فالقول قول المشتري في قدر ذلك؛ لأنه في يده۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس