بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گنجاپن چھپانے کے لیے وِگ کا استعمال اور حکم

سوال

اگر کوئی شخص وِگ یعنی گنجا پن چھپانے کے لیے سر پر بالوں سے بنا ہوا وِگ لگائے،بال اصلی ہو ں یا نقلی ، دونوں صورتوں میں استعمال کا کیا حکم ہے اور اس میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

انسان یا خنزیرکے بالوں کی وِگ کسی دوسرے شخص کو لگانا یا لگوانا نا جائز اور سخت گناہ ہے اس عمل پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،البتہ انسان کے اپنے بال یا خنزیر کے علاوہ کسی دوسرے جانور کے بال یا مصنوعی بالوں کے استعمال کی گنجائش ہے بشرطیکہ دھوکہ دینا مقصود نہ ہو۔اور اگر وِگ کےبال جسم کےساتھ پیوست نہ ہواور وہ جسم سے الگ ہوجاتے ہوں تو وضو میں اس پر مسح کرنا اور غسل میں اس کا دھونا جائز نہیں ہوگا، بلکہ وِگ کو اتارنا ضروری ہے اور اگر یہ بال آپریشن (ھیئر ٹرانسپلانٹ )کے ذریعے اس طرح لگائے گئے ہوں کہ جسم کےساتھ پیوست ہو جائیں تو جسم کا جزؤ ہونے کی وجہ سے اس پر مسح اور غسل میں دھونا کافی ہوگا۔
(مأخذہ:تبویب دارالافتاء دارالعلوم، کراچی69/1408)
صحيح البخاري (7/ 165)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة»
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 1/96)
فلا يصح مسح أعلى الذوائب المشدودة على الرأس
قوله: “المشدودة على الرأس” أي التي أديرت ملفوفة على الرأس بحيث لو أرخاها لكانت مسترسلة أما لو كان تحته رأس فلا شك في الجواز
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 154):سعید
(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين ولو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين
(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح
 (قوله: ونيم إلخ) ظاهر الصحاح والقاموس أن الونيم مختص بالذباب نوح أفندي، وهذا بالنظر إلى اللغة، وإلا فالمراد هنا ما يشمل البرغوث؛ لأنه أولى بالحكم
 (قوله: لم يصل الماء تحته) لأن الاحتراز عنه غير ممكن حلية
(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللا بالضرورة. قال في شرحها ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن اهـ لكن يرد عليه أن الواجب الغسل وهو إسالة الماء مع التقاطر كما مر في أركان الوضوء. والظاهر أن هذه الأشياء تمنع الإسالة فالأظهر التعليل بالضرورة، ولكن قد يقال أيضا إن الضرورة في درن الأنف أشد منها في الحناء والطين لندورهما بالنسبة إليه مع أنه تقدم أنه يجب غسل ما تحته فينبغي عدم الوجوب فيه أيضا تأمل
الخانیۃ (۳۷۱/۴)
ووصل الشعر بشعر الآدمی حرام سواءٌ کان شعرھا أو شعر غیرھا، ولا بأس للمرأۃ أن یجعل فی قرونھا وذوائبھا شیئا من الوبر ویکرہ ان تصل شعرھا غیرھا۔ ولا بأس للتاجر حلق شعر جبھۃ الغلام لانہ یزید فی الثمن فان کان العبد للخدمۃ ولا یرید بہ التجارۃ لایستحب ان یفعل ذلک
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس