بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گاڑی کی انشورنس

سوال

کیا گاڑی کی انشورنس جا ئزہے ؟

جواب

مروجہ ” گاڑی کی انشورنس ” کاعقد 3 شرعی خرابیوں (سود ،جوا اور غرر )کی وجہ سے شرعاًناجائز اور حرام ہے ،ایسی پالیسی کو حاصل کرنے سے مکمل بچنا لازم ہے ۔ البتہ اگر کار انشورنس لینی ہی ہو تو کسی ایسے اسلامی انشورنس کمپنی سےاس کا متبادل (Alternative) نظام “تکافل ” کی پالیسی لی جاسکتی ہے، جو مستند علماء اور مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کر رہی ہو اور ان کو اس ادارہ کی کارگردگی پر اطمینان بھی ہو ۔اوربہتر ہو گامذکورہ تکافل پالیسی لینے کے بعد اس کے تمام کاغذات ہم کود کھادیں۔
القران الکریم
أَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (275)}[البقرة:] {يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (90)}[المائدة:]
الصحيح لمسلم بن الحجاج النيسابوري(م:261ھ)(3/ 1153)دارإحياء التراث
عن أبي هريرة، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة، وعن بيع الغرر»۔
     بحوث في قضايا فقہية معاصرة، مفتي محمد تقي العثماني(2/187) دار العلوم كراتشي
           فقد اتفق معظم العلماء المعاصرين و المجامع و الندوات الفقہية على حرمة التأمين التقليدي؛ لمايشتمل عليہ من الغرر والقمار والربا.وقد اقتُرح التأمين التكافلي بديلا للتأمين  التقليدي على أن يكون التعامل فيہ على أساس التبرع دون المعاوضة  فإن الغرر إنما يحرم في عقود المعاوضة، لافي التبرعات. (دیکہئےفتاوی عثمانی،مفتی محمد تقی عثمانی(3/328) معارف القرآن کراچی)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس