بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گائے ذبح کرنے سے پہلے یا بعد میں پیٹ سے بچہ نکلا تو اس کا کیا حکم ہے

سوال

اگر کسی نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اور اسے ذبح کرنے سے پہلے اس کا بچہ پیداہو جا ئے یا قربانی کر نے کے بعد پیٹ سے بچہ نکل آئے تو اس کے بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے ؟

جواب

گائے کو ذبح کرنے سے پہلے بچہ پیدا ہو نے کی صورت میں قربا نی کرنے وا لاشخص اگر صاحب نصاب ہو تو اس کے لیے بچے کو ذبح کرنا ضروری نہیں اور اگر صاحب نصاب نہ ہو تو گائے کے ساتھ بچے کو بھی ذبح کریگا ،اور اس کے گوشت کو بھی کھایا جائے گا ۔اور اگر بچہ گائے کو ذبح کرنےکے بعد پید اہوا ہو تو دیکھیں گے کہ آیا بچہ زندہ ہے یا مردہ اگر زندہ ہو تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو ماں کا ہے یعنی اس کو بھی ذبح کیا جائےگا اور اس کا گوشت بھی کھا یا جائے گا ،اور اگر مردہ پیدا ہو تو اس کو استعمال میں نہیں لاسکتے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(6/ 322)رشیدیة
فإن خرج من بطنها حيا فالعامة أنه يفعل به ما يفعل بالأم، فإن لم يذبحه حتى مضت أيام النحر يتصدق به حيا، فإن ضاع أو ذبحه وأكله يتصدق بقيمته، فإن بقي عنده وذبحه للعام القابل أضحية لا يجوز، وعليه أخرى لعامة الذي ضحى ويتصدق به مذبوحا مع قيمة ما نقص بالذبح، والفتوى على هذا۔
تاتارخانیة،الامام فرید الدین عالم بن العلاء(م:786)(443)فاروقیة
وإذا اشتری بقرة، وأوجبها أضحیة فولدت ولدا ذبحها وولدها معها،ومن المتاخرین من قال :لا یجب علیه أن یذبح الولد مع الام ،ومن أصحابنا من قال:ما ذکر من الجواب فی الکتاب أنه یذبح الولد مع الأم محمول علی الاضحیة التی وجبت بالإیجاب بان کان صاحبها معسرا ؛ فاما إذا اشتری ، وهو موسر فولدت لا یجب ذبح الولد؛لأن الحق غیرمتعلق بهذا العین، فإن ذبح الولد یوم الأضحی قبل الأم، أوبعدهاجاز، وإن لم یذبحه، وتصدق به حیا یوم الأضحی أجزأه. کذا فی بدائع الصنائع،علاء الدين،الكاساني(م: 587ھ) علمیة۔
 ولو ولدت الأضحیة تعلق بولدہا من الحکم ما یتعلق بہا فصار کما لو فات بمضی الأیام۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس