بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کیا بیوی اپنا حق زوجیت /باری معاف کرکے اپنے فیصلے سے رجوع کر سکتی ہے؟/شوہر کا بیویوں کے درمیان دنوں کی تقسیم میں برابری کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ کمروں میں قیام کرنے کا حکم؟

سوال

نمبر ۱۔اگردوسری بیوی نکاح سے قبل اپنے دنوں میں حقِ مساوات سے دستبردار ہو جائے،اور بعد میں اپنا فیصلہ واپس لینا چاہے،تو کیا وہ ایسا کر سکتی ہے ؟
نمبر۲۔کیا شوہر اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ الگ الگ کمروں میں قیام کر سکتا ہے تاکہ دنوں کی تقسیم میں برابری ہو؟

جواب

بیوی کا حق

نمبر ۱۔جی ہاں!وہ اپنا فیصلہ واپس لینا چاہے تو لے سکتی ہے۔
نمبر۲۔جی ہاں ! بہتر بھی یہی ہے کہ شوہر اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ الگ الگ کمروں میں قیام کرے۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 216) دار احياء التراث العربي
 ” وإن رضيت إحدى الزوجات بترك قسمها لصاحبتها جاز ” لأن سودة بنت زمعة رضي الله عنها سألت رسول الله عليه الصلاة والسلام أن يراجعها وتجعل يوم نوبتها لعائشة رضي الله عنها ” ولها أن ترجع في ذلك ” لأنها أسقطت حقا لم يجب بعد فلا يسقط والله أعلم
الفتاوى الهندية (1/ 341) دار الفكر
وإن رضيت إحدى الزوجات بترك قسمها لصاحبتها جاز ولها أن ترجع في ذلك كذا في الجوهرة النيرة
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 26) المطبعة الخيرية
 (وإذا رضيت إحدى الزوجات بترك قسمها لصاحبتها جاز ولها أن ترجع في ذلك)  لأنها أسقطت حقا لم يجب فلا يسقط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس