بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کھجوریں خشک کرنے کا ٹھیکہ دینا اور اجرت انہی میں سے دینا

سوال

ایک شخص دوسرے کو کھجور سکھانے کا ٹھیکہ دیتا ہے کہ دھوپ میں خشک کر کے دو اور اجرت کے طور پر آدھی کھجور طے کرتا ہے کیا اس طرح معاملہ شرعاًجائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں انہی کھجوروں میں سے اجرت طے کرنے کا معاملہ جائز نہیں ، بلکہ کھجوروں کا مالک پیسوں میں اجرت طے کردے اور اگر بعد میں اس اجرت کے بدلے اتنی ہی کھجوریں دے دے تو بھی معاملہ درست ہو جائے گا ۔
السنن الكبرى للبيهقي(باب النهي عن عسب الفحل)
عن أبي سعيد الخدري , قال: ” نهي عن عسب الفحل ” زاد عبيد الله ” وعن قفيز الطحان۔
بدائع الصنائع  (4/ 192) دار الكتب العلمية
 إذا استأجر رجلا ليطحن له قفيزا من حنطة بربع من دقيقها أو ليعصر له قفيزا من سمسم بجزء معلوم من دهنه أنه لا يجوز؛ لأن الأجير ينتفع بعمله من الطحن والعصر فيكون عاملا لنفسه وقد روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه «نهى عن قفيز الطحان» ولو دفع إلى حائك غزلا لينسجه بالنصف فالإجارة فاسدة؛ لأن الحائك ينتفع بعمله وهو الحياكة وكذا هو في معنى قفيز الطحان فكان الاستئجار عليه منهيا وإذا حاكه فللحائك أجر مثل عمله لاستيفائه المنفعة بأجرة فاسدة۔
الدر المختار (6/ 56) دار الفكر
(ولو) (دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه – صلى الله عليه وسلم – عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء.الحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس