بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کو ایجوکیشن(مخلوط تعلیمی اداروں) کا حکم

سوال

مجھے کالج مینیجمنٹ میں کام کرتے ہوئے 10 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکاہے ۔ اب میں اپنا کالج کھولنا چاہتا ہوں۔ لیکن جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ آج کل تمام کالجز میں کو ایجوکیشن ہے اور اسی میں لوگوں کی دلچسپی بھی ہے۔ اب کیا میں کو ایجوکیشن کے ساتھ کالج کھول سکتا ہوں۔ یعنی کلاسسز میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ جبکہ میرا ارادہ ہے کہ میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ زیادہ اختلاط نہ ہو۔ لڑکے لڑکیاں کالج میں آئیں اور تعلیم حاصل کرکے چلے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کیا فی میل ٹیچرز کو ٹیچنگ کےلیے رکھا جاسکتا ہے۔ کیا کو ایجوکیشن سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی یا حرام۔

جواب

شریعتِ مطہرہ میں مرد و زن کے اختلاط کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔بحیثیتِ مسلمان ہمارا شرعی اور اخلاقی فريضہ بنتا ہے کہ ہم ایسے تعلیمی ادارے بنائیں جن میں مرد و خواتین کا اجتماع نہ ہو ،دونوں ایک دوسرے سے جدا رہیں ۔
ٍصورتِ مسؤلہ میں چونکہ آپ کا ارادہ اپنا کالج کھولنے کا ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ مرد و خواتین کے لیے علیحدہ انتظام کریں کہ لڑکیوں کی تعلیم باپردہ ماحول میں لڑکوں سے بالکل الگ ہواور اس طرح کا ادارہ بنا کر آپ ان لوگوں کے لیے مثال پیش کریں جو اس طرح کے تعلیمی نظام کو ناممکن قرار دیتے ہیں ،نیز یہ آپ کے لیے ایک بہت بڑی خیر کا دروازہ بھی ثابت ہوگا؛ کیونکہ آپ کو دیکھ کر کسی اور نے اس طرح (غیر مخلوط کالج) کھولا تو اس کا اجر و ثواب بھی آپ کو ملے گا ، اس لیے کہ جو شخص کسی خیر کے کام کا افتتاح کرتا ہے اور دوسرے بھی اس کام کو کرنے لگ جائیں تو دوسروں کے کرنے کاثواب بھی اس شخص کو ملتا رہتا ہے،البتہ اگر کوئی شخص پھر بھی مخلوط تعلیمی ادارہ کھول لیتا ہے تو مرد و خواتین کے اجتماع کا سبب بننے کا گناہ تو ملے گا لیکن حاصل ہونے والی آمدن حرام نہ ہوگی۔
کما قال اللہ تعالیٰ
{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30)} [النور: 30]
قال اللہ تعالیٰ
{ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدة: 2]
أحكام القرآن للجصاص (5/ 172)
 قال أبو بكر هذا تخصيص بلا دلالة والذي يقتضيه الظاهر أن يكون المعنى حفظها عن سائر ما حرم عليه من الزنا واللمس والنظر وكذلك سائر الآي المذكورة في هذا الموضع في حفظ الفروج هي على جميع ذلك ما لم تقم الدلالة على أن المراد بعض ذلك دون بعض۔
سنن الترمذي  (4/ 338)
عن أنس بن مالك، قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل يستحمله، فلم يجد عنده ما يحمله فدله على آخر فحمله، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال: إن الدال على الخير كفاعله
البحر الرائق 8/ 218
قال: – رحمه الله – (ولا ينظر من اشتهى إلى وجهها إلا الحاكم والشاهد وينظر الطبيب إلى موضع مرضها) والأصل أنه لا يجوز أن ينظر إلى وجه الأجنبية بشهوة لما روينا إلا للضرورة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس