بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کلما طلاق کے ساتھ قسم اٹھاتا ہوں کہ میں آج فلاں جگہ گیا تھا” کہنا”

سوال

اگر کوئی شخص کسی کو کہے کہ تم نے فلاں کام نہیں کیا، اور وہ کہے کہ میں نے کیا ہے، لیکن وہ شخص اس کو نہیں مانتا اور پھر کہے کہ “تم کلما طلاق کے ساتھ قسم اٹھاؤ کہ تم آج باغ ناران گئے ہو” تو اس نے کہا “میں کلما طلاق کے ساتھ قسم اٹھاتا ہوں کہ میں آج باغ ناران گیا تھا”اور وہ سچ مچ میں گیا تھا۔ تو اب اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب قسم اٹھانے والا شخص مذکورہ جگہ (باغ ناران) گیا تھا تواس کی بیوی پر کوئی طلاق نہیں ہوئی۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس