بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی کی کتاب کو بغیر اجازت کے یا اپنے نام سے شائع کرنا

سوال

ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ ہم فنی علوم یا دینی جو کتابیں لکھتےہیں یا اپنے نام سے چھاپتے ہیں اوراس میں اپنا علم بھی شامل کرتے ہیں اگرچہ وہ بات ہمارے اپنے تحقیقی کام کی وجہ سے ہی ہو، تو کیا دوسرے کی کتاب کا کوئی حصہ نقل کرنا کیساہے جبکہ اس کی جملہ بحق محفوظ بھی ہوں ، کیا اس طرح کی کتاب کی خریدوفروخت بھی جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

جو شخص کتاب لکھے اس میں ان کا تحقیقی کام ہو اور بطور حوالہ کے کوئی عبارت کسی دوسرے کی کتاب سے نقل کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ ا لبتہ کسی کی کتاب کو اپنے نام سے شائع کرنا یا اس کی اجازت کے بغیر شائع کرنا جبکہ اس کے جملہ حقوق محفوظ ہوں تو یہ جائز نہیں ۔
اسی طرح کسی آدمی کی عبارت کو بغیر حوالہ کے نقل کرنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔
تقریرات الرافعی علی فتاویٰ الشامیة(7/33) رشیدیة
الظاہر عدم صحة الاستدلال بھذاالفرع علی صحة الاعتیاض عن الحقوق المجردۃ ، فان المراد انہا مجردہ عن الملک  والحق  فی الفرع المذکور مملوک فلم یکن مجراد عنه کما نحن فیه
فقہ البیوع ( 1/ 282) مکتبة المعارف کراتشی
وکذالک من صنف کتابا ، او الفه ، فله الحق لطباعة ذالک الکتاب ونشرہ ، والحصول علی ارباح التجارۃ ، وربما یبیع ھذاالحق الی غیرہ، فیستحق بذالک ماکان یستحقه المؤلف من طبعه ونشرہ
بحوث قضایا فقہیه معاصرہ (1/116) مکتبة المعارف کراتشی
ولکن ھذا انما یتاتی فی اصل حق الابتکار وحق الطباعة ، اما اذا قرن ھذا الحق بالتسجیل الحکومی الذی    یبذل المتکبر من اجله جہدہ وماله ووقته، الذی یعطی ھذا الحق مکانة قانونیة تمثلہا شہادات مکتوبة  بید ٍالمتکبر وفی دفاتر الحکومة ، وصار تعتبر فی عرف التجار مالا متقوما
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس