ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ ہم فنی علوم یا دینی جو کتابیں لکھتےہیں یا اپنے نام سے چھاپتے ہیں اوراس میں اپنا علم بھی شامل کرتے ہیں اگرچہ وہ بات ہمارے اپنے تحقیقی کام کی وجہ سے ہی ہو، تو کیا دوسرے کی کتاب کا کوئی حصہ نقل کرنا کیساہے جبکہ اس کی جملہ بحق محفوظ بھی ہوں ، کیا اس طرح کی کتاب کی خریدوفروخت بھی جائز ہے یا نہیں ؟
تقریرات الرافعی علی فتاویٰ الشامیة(7/33) رشیدیة
الظاہر عدم صحة الاستدلال بھذاالفرع علی صحة الاعتیاض عن الحقوق المجردۃ ، فان المراد انہا مجردہ عن الملک والحق فی الفرع المذکور مملوک فلم یکن مجراد عنه کما نحن فیه
فقہ البیوع ( 1/ 282) مکتبة المعارف کراتشی
وکذالک من صنف کتابا ، او الفه ، فله الحق لطباعة ذالک الکتاب ونشرہ ، والحصول علی ارباح التجارۃ ، وربما یبیع ھذاالحق الی غیرہ، فیستحق بذالک ماکان یستحقه المؤلف من طبعه ونشرہ
بحوث قضایا فقہیه معاصرہ (1/116) مکتبة المعارف کراتشی
ولکن ھذا انما یتاتی فی اصل حق الابتکار وحق الطباعة ، اما اذا قرن ھذا الحق بالتسجیل الحکومی الذی یبذل المتکبر من اجله جہدہ وماله ووقته، الذی یعطی ھذا الحق مکانة قانونیة تمثلہا شہادات مکتوبة بید ٍالمتکبر وفی دفاتر الحکومة ، وصار تعتبر فی عرف التجار مالا متقوما