تقریباً نوسال پہلے ہم میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اور ناراضگی میں، میں لاہور سے ملتان چلاگیاتھا، اس کے ایک ہفتے کے بعد میرے بھائی میرے برادرِ نسبتی (سالے) سے ملےاور ان کو ایک کاغذ دیا جس پر میری جانب سے جھوٹی تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں اور میرے جعلی دستخط بھی اس پر تھے ۔
مفتی صاحب! میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتاہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کاغذ کیسے بنا ، میں نے کبھی تحریری یازبانی طلاق نہیں دی ،یہ کاغذ جعلی بنائے گئے ہیں ،نیز اس کے اوپر جن حضرات کے بطور گواہ دستخط ہیں ان کا کہنابھی یہی ہے کہ ہم نے دستخط نہیں کئے،ایسی صورت میں ہمارے لئے کیاحکم ہے ؟۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق ہےاور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہیں کی گئی ہے اورواقعۃ ً آپ نے کبھی (تحریری یازبانی) کوئی طلاق نہیں دی ، آپ نے طلاق نامہ تیار کرکے رکھا ہوا بھی نہیں تھا ، اورآپ نےبھائی کوطلاق نامہ لکھوانےکاوکیل بھی نہیں بنایا،بلکہ آپ کے بھائی نے جعلی طلاق نامہ تیار کروایاہے تو ایسی صورت میں شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، آپ کے درمیان نکاح بدستور قائم ہےاور آپ کا باہمی اکٹھے رہنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ۔
نیز کسی کی طرف منسوب کرکے جعلی طلاق نامہ تیار کروانا عنداللہ گناہِ کبیرہ اور سنگین جرم ہے، اس پر توبہ کرنا اور صاحبِ حق سے معافی مانگنا ضروری ہے۔
رد المحتار،ابن عابدين،محمد أمين بن عمر(م: 1252ہ)(3/ 246)سعید
ولواستكتب من آخر كتابا بطلاقہا وقرأہ على الزوج فأخذہ الزوج وختمہ وعنونہ وبعث بہ إليہا فأتاہا وقع إن أقر الزوج أنہ كتابة أو قال للرجل: ابعث بہ إليہا، أو قال لہ: اكتب نسخة وابعث بہا إليہا، وإن لم يقر أنہ كتابہ ولم تقم بينة لكنہ وصف الأمر على وجہہ لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبہ بخطہ ولم يملہ بنفسہ لا يقع الطلاق ما لم يقر أنہ كتابہ۔