بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی کا نام لے کر دعا کروانا

سوال

عید الفطر کا خطبہ دینے کے لیے جناب خطیب صاحب مسجد میں داخل ہوئے تو ایک صاحب نے ان سے کہا میرے بیٹے کا نام لے کر دعا کروادینا جو جوانی کے عالم میں ظلماً قتل کردیا گیا تھا اور وہ انتہائی غم زدہ تھے اور میرے بھائی اور والد کا نام لے کر بھی دعا کردینا۔
خطیب صاحب اجتماعی دعاؤں میں جہاں اوروں کے عزیز و اقارب کی بخشش و مغفرت کے لیے دعا مانگی وہیں ان کے عزیز و اقارب کا نام لے کر دعا کروائی۔
تو بعض دوستوں نے خطیب صاحب پر اعتراض کیا کہ انہوں نے سراسر ریاکاری کی ہے جبکہ معترضین کے عزیز و اقارب کی وفات کے موقع پر اور بعد میں بھی ان کا نام لے کر بھی دعائیں مانگی گئیں، تو اس موقع پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا جبکہ خطیب صاحب کا کہنا یہ ہے کہ میں نے معمول کے مطابق دعا کروادی میرے دل میں ریاکاری بالکل نہیں۔قرآ ن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں خطیب صاحب کا کسی کا نام لے کر دعا کروانا دعا کی درخواست کرنے والے شخص کی دل جوئی کیلئے تھا اور شرعاً نام لے کر دعا کروانے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔ اور ریاکاری کا ہونا نہ ہونا قلب کے اعمال میں سے ہے لہذا نام لے کر دعا کروانے کو ریاکاری قرار دینا محض ایک الزام ہے جو شرعاً درست نہیں۔ معترضین کا اس طرح کے الزام عائد کرکے انتشار پیدا کرنا درست عمل نہیں۔ اس طرح کی باتوں سے پرہیز لازم ہے۔
صحيح البخاري(8/19)
عن أبي هريرة رضي الله عنه:عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌إياكم ‌والظن، فإن الظن أكذب الحديث۔
صحيح مسلم (1/96) باب التحریم قتل الکافر بعد ان قال :لا الہ الا اللہ
عن أسامة بن زيد ، وهذا حديث ابن أبي شيبة، قال: « بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية، ‌فصبحنا ‌الحرقات ‌من ‌جهينة، فأدركت رجلا فقال: لا إله إلا الله، فطعنته فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أقال: لا إله إلا الله، وقتلته؟ قال: قلت: يا رسول الله، إنما قالها خوفا من السلاح، قال: أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم أقالها أم لا؟۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس