بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی کا بغیر اجازت کے وائی فائی انٹرنیٹ استعمال کرنا

سوال

بعض جگہوں پر وائی فائی کا کنکشن لگا ہوتا ہے اور مالک کوڈ لگانا بھول جاتا ہے، اب جہاں تک اس کے سگنل جاتے ہیں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں جبکہ مالک کو پتہ بھی نہیں ہوتا، اور بل کی ادائیگی وہی مالک کرتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ ایپ کے ذریعے سے وائی فائی کا کوڈ کھول لیتے ہیں اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ مالک بے خبر ہوتا ہے۔ کیا اسطرح انٹر نیٹ کا استعمال جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کی کوئی چیز بغیر اس کی اجازت کے اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ،لہذا کسی شخص کا مالک کی اجازت کے بغیر وائی فائی استعمال کرنا (خواہ مالک نے پاسورڈ لگایا ہو یا نہیں ) جائز نہیں ۔
البتہ مالک کی طرف سے صراحتاً یا دلالۃً اجازت ہو مثلاً:اس بات کا یقین یا ظنِ غالب ہو کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہوگا تو ایسی صورت میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے ،نیز پاسورڈ توڑ کے وائی فائی استعمال کرنا ہر گز جائز نہیں ۔
مشكاة المصابيح (باب الغصب والعاریۃ)
 وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ” «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في ” شعب الإيمان “، والدارقطني في ” المجتبى “۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1974)دار الفکر 
(” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه۔
رد المحتار (4/ 61)دار الفکر
 لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس