بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی وارث کو وراثتی حصہ کی قیمت دینے کی ایک خاص صورت

سوال

ہمارےوالدصاحب2003ءمیں رضائےالٰہی سےانتقال فرماگئےتھے۔ورثاءمیں والدہ،تین بھائی،دوبہنیں تھےجوکہ سب غیرِشادی شدہ تھے۔والدصاحب ترکہ میں ایک گھر،ایک گاڑی،ایک دُکان اورمالِ تجارت  لگ بھگ ڈیڑھ کروڑچھوڑکرگئےتھے۔ہم نےاس وقت میراث تقسیم نہ کی بلکہ 2010ءمیں ہم سب ورثاءباہم مل کربیٹھےاورتمام اثاثہ جات کاحساب لگایااورجس کاجوحصہ بنتاتھااس کاحساب کیا لیکن فوری طورپرکسی قسم کی ادائیگی نہ کرسکے،ہماری بہنوں نےہمیں یہ اختیاردیاکہ جب آپ اس پوزیشن میں آجائیں کہ ہمیں ہماراحق اورحصہ اداکرسکیں تواداکردیجئےگا،ہماری طرف سےفوری کوئی مطالبہ نہیں۔جبکہ بھائیوں کا اوروالدہ کاحصہ ہم نےاس تقسیم کے4،5 ماہ بعداداکردیاتھا۔2010ءمیں جب ہم نے تقسیم کی تھی توتمام اثاثہ جات کی مالیت تقریباًپونےچارکروڑہوچکی تھی،گھرایک ہی تھا،گاڑیاں دوہوچکی تھیں،دکانیں بھی دو ہوگئی تھیں۔اب اگرہم بہنوں کایادیگرورثاءکاحق اداکرنےکی استطاعت رکھتےہیں توکون سی مالیت کااعتبارہوگا؟ کیا2010ءمیں جوہم نےتقسیم کی تھی اسی مالیت کااعتبارکرکےان کاحق ادا کریں یااثاثہ جات کی موجودہ مالیت کااعتبارکرکےاس میں سےان کاحصہ منہاکرکےان سپردکریں؟ تنقیح: معلوم یہ کرنا ہے 2010ءمیں آپ حضرات کے درمیان بہنوں کو ان کے حصہ کی قیمت دینا طے ہواتھایاترکہ میں سے ان کو کچھ اشیاء دینا طے ہواتھا؟ جواب ِتنقیح: ہم نےکل اثاثہ جات کی قیمت لگائی تھی اوربہنوں کوان کی حصوں کی قیمت نقدی کی شکل میں دیناطےہواتھااورہربہن کےحصہ کی قیمت متعین ہوگئی تھی۔اوربہنوں نےیہ کہہ دیا تھا کہ جائیداداورترکہ کی اشیاءسےہم دستبردار ہوتی ہیں۔ہمیں ہمارےحصہ کی قیمت جب آپ کی استطاعت ہودےدیں۔

جواب

سوال میں جوصورتِ حال ذکر کی گئی ہےاگروہ واقعۃً درست ہےتوایسی صورت میں2010ء میں لگائےگئےحساب کےمطابق بہنوں کوجتنی رقم دینی طےپائی تھی بہنیں صرف  اسی رقم کی حقدار ہیں۔

 

الدر المختار،العلامةعلاء الدين الحصكفي (م:1088هـ)(4/536) رشیدیة کوئتة قدیم
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له…(صح)۔
رد المحتار،العلامةابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(4/537) رشیدیة کوئتة قدیم
قال في البحر: وحكمه في جانب المصالح عليه وقوع الملك فيه للمدعي…وفي المصالح عنه وقوع الملك فيه للمدعى عليه إن كان مما لا يحتمل التمليك كالمال
   البحر الرائق،ابن نجيم المصري (م:970هـ) (7/260)دار الكتاب الإسلامي
 (ولو أخرجت الورثة أحدهم عن عرض أو عقار بمال أو عن ذهب بفضة أو على العكس صح قل أو كثر)  (كذا في كنز الدقائق،أبو البركات عبد الله بن أحمد (م:710هـ) (ص:521)دارالبشائر)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس