ایک گھرانہ میں کچھ لوگ بارات لینے لڑکی کے گھر گیں ،تو لڑکی کے رشتہ داروں میں موجود ایک آدمی بارات میں آنے والے ایک فرد سے سابقہ تنازع تھا تو لڑکی کے رشتہ دارنے اس کو مارا اور ہاتھاپائی کی۔ اس پر لڑکے کے والد نے غم وغصے کا اظہار کیا ، البتہ موقع پر موجود لوگوں نے معاملہ رفع دفع کرکے بارات بھیج دی اور شادی ہوگئی اور لڑکے کے رشتہ دار کو معافی کا کہا گیا اور انہوں نے معافی بھی مانگی لیکن لڑکے کا والد سخت ناراض ہے باوجوداس معافی اور صلح کی پیشکش کے وہ ناراض ہے اور اپنے اہل وعیال کو لڑکی والوں اور دیگر رشتہ داروں سے ملنے سے منع کرہاہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا لڑکے کے والد کا یہ طرزِ عمل درست ہے اور اس معاملے میں والد کو شرعاً کیا کرنا چاہئے؟
حدیث مبارکہ میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ :ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرنا جائز نہیں ،لہذا سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال کے مطابق لڑکے کے والد کو چاہیے کہ وہ مذکورہ معاملے میں صلح کر کے مجرم کو معاف کرے ، اس کے لیے قطع تعلقی کرنا اور دوسروں کو قطع تعلقی پر مجبور کرنا ہرگز جائز نہیں ہے اور اس پر لازم ہے کہ اپنے اہل و عیال کو رشتہ داروں سے ملنے سے منع نہ کرے، نیز اپنے قطع تعلقی کے اس عمل پر توبہ استغفار بھی کرے ۔
القراٰن(:النساء :الاٰیۃ:128)
وَالصُّلْحُ خَيْرٌ۔
التفسير المظهري (2/ 252) مكتبة الرشدية
قوله تعالى وَالصُّلْحُ خَيْرٌ من الفرقة او من الخصومة او من سوء المعاشرة۔
صحيح البخاري (كتاب الادب،باب الهجرة)
عن أنس بن مالك: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال»۔
صحيح البخاري (كتاب الادب ،باب اثم القاطع)
عن ابن شهاب، أن محمد بن جبير بن مطعم، قال: إن جبير بن مطعم، أخبره: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يدخل الجنة قاطع»۔
فتح الباري لابن حجر (10/ 492) دار المعرفة
قال النووي قال العلماء تحرم الهجرة بين المسلمين أكثر من ثلاث ليال بالنص ۔۔