بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی شخص کا اپنا نکاح خود پڑھانا

سوال

کیا کوئی آدمی اپنا نکاح خود پڑھا سکتاہے یا نہیں یا کسی نکاح خواں کی ضرورت ہوتی ہے۔وضاحت فرمائیں ۔

جواب

کوئی شخص اپنا نکاح خودبھی پڑھا سکتا ہے بشرطیکہ نکاح کے تمام رکن اور تمام ضروری احکام وشرائط کی رعایت کی جائے یعنی مجلس نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرر کرکے ایجاب و قبول ہو جائے تو نکاح منعقد ہو جائے گا ۔نکاح خواں کا ہونا لازم نہیں۔
فتاوی ھندیہ (1/295)بیروت ۔
واما رکنہ:فا الایجاب والقبول کذا فی الکافی ، والایجاب ما یتلفظ بہ اولا من ای جانب کان والقبول جوابہ ھکذا فی العنایہ
الد رالمختار (4/78۔79)رشیدیۃ۔
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت، و) ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس