سوال یہ ہے کہ ایک جگہ پلاٹس فروخت ہو رہے ہیں حالانکہ ابھی تک وہ جگہ ایک جنگل ہےاور بیچنے والے کہتے ہیں کہ آپ ماہانہ 5000 قسط دیتے رہیں 5 سال تک ۔5 مرلے 5 لاکھ کے اور 2 سال کے اندر اندر آپ کو پلاٹ کا قبضہ مل جائے گا جب جگہ ہموار ہو گی پلاٹنگ ہو گی تو اب اس میں کیا حکم شرعی ہے کہ ایسی جگہ کو لینا جو ابھی اس وقت جنگل ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ زمین اگرواقعۃ ًبیچنےوالوں کی ملکیت ہےاوروہ اسےمذکورہ طریقےسےفروخت کررہےہیں توشرعاًیہ وعدہ بیع کی صورت ہے۔لہٰذا اگر زمین سے متعلق تمام تفصیلات طے ہوجائیں یعنی زمین کا رقبہ، لوکیشن وغیرہ تو اس صورت میں اس زمین کی فائل خریدنا جائز ہے۔البتہ اس وعدہ بیع کے ساتھ خریدی گئی پلاٹ کی فائل کوباقاعدہ سیکٹراورپلاٹ نامزدہونےسےپہلےاس کی قیمت خریدسےزائدپرآگےکسی دوسرے شخص کوبیچنا جائز نہیں۔
:رد المحتار (7/14)رشیدیة
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم۔۔۔۔۔۔۔ومعلومية المبيع، ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة۔
:البحر الرائق (5/433)رشیدیة
وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم۔۔۔۔۔ وأما شرائط الصحة۔۔۔ ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة۔
:الفتاوى الهندية (3/ 3)دارالکتب العلمیہ ،بیروت
ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا۔۔۔۔وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه ۔۔۔۔أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع ۔۔۔۔۔ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة۔