میری جاب ایف بی آر سے متعلق ہے میرا ایک دوست ہے جو ایف بی آرذریعے کام کرواتا ہے جس طرح این ٹی این کا پاسورڈ بھول جائے تو اس ایف بی آر کو پیسے دے کر ریکور کرواتا ہے۔ ریکور کروانے کے دو ہزار روپے فیس ادا کرتا ہے۔ میرے پاس بھی ایک بندہ ہے جو ریکور کا کام ایک ہزار میں کرتا ہے، میں نے اپنے دوست کوکہا کہ دو ہزار مجھے دیا کرو میں تمہارا کام ایک ہزار میں کروایا کروں گا، اس میں کام ایک ہزار کا ہوگا بقیہ پانچ سو تمہارے اور پانچ سو میرے۔ ایسا کرنا میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟
آپ جس آدمی سے پاسورڈ ریکورکرواتے ہیں اگر وہ ایف بی آر کا ملازم ہے اور محکمہ کی طرف سے اس کی ذمہ داری یہی کام کرنا ہے،تو اس صورت میں اس کو پیسے دے کر کام کروانا رشوت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔البتہ یہ آدمی ایف بی آر کا ملازم نہیں ہے بلکہ محنت کرکے یہ کام کرتا ہےتو اس کو اجرت دے کر جائز قانونی کام کروانے میں کوئی حرج نہیں۔
سنن الترمذي ،ابواب الحکام،باب ماجاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم
عن أبي هريرة قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم۔
الدر المختار ،كتاب البيوع(4/ 560)ايچ۔ايم ۔سعيد
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية۔
رد المحتار ،كتاب البيوع (4/ 560)ايچ۔ايم ۔سعيد
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (5/ 3326)رشيدية
بيع السمسرة: السمسرة: هي الوساطة بين البائع والمشتري لإجراء البيع. والسمسرة جائزة، والأجر الذي يأخذه السمسار حلال؛ لأنه أجر على عمل وجهد معقول۔