بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کرکٹ ٹورنامنٹ اور اس میں ملنے والے انعام کا حکم

سوال

مفتی صاحب ! مختلف کھیلوں کا ایسا ٹورنامنٹ جس میں مقابلہ میں شریک تمام ٹیموں سے ایک مخصوص رقم مثلاً: تین ہزار (3000) روپے بطور انٹری فیس لی جاتی ہے اور پھر وہ دو ٹیمیں جو بقیہ ٹیموں کو ہرا کر اپنی کارکردگی کی بنا پر فائنل میں پہنچتی ہیں، تو ان دونوں ٹیموں میں سے جو فائنل جیتتی ہے، اسے انٹری فیس سے زیادہ مثلاً: پندرہ ہزار (15000) روپے انعام دیا جاتا ہے اور فائنل ہارنے والی ٹیم کو انٹری فیس سے زیادہ مثلاً: دس ہزار (10000) روپے انعام دیا جاتا ہے اور بقیہ ہارنے والی ٹیموں کو کچھ نہیں ملتاہے۔ کیا اس طرح ٹورنامنٹ میں شامل ہو کر جیتنے والی ٹیم کا انعام حاصل کرنا جائز ہے؟جزاک اللہ خیراً

جواب

کرکٹ ٹورنامنٹ میں کھیلنے اور اس کا شرعی حکم معلوم کرنے سے قبل ایک تمہید ملحوظ رہنا چاہیے کہ کسی بھی قسم کا کھیل کھیلنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے
نمبر1- وہ کھیل بذاتِ خود جائز کھیل ہو، اس میں کوئی ناجائزبات نہ ہو۔
نمبر2- اس کھیل میں کوئی دینی یا دینوی منفعت ہو مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ۔
نمبر3-کھیل میں غیر شرعی امور (مثلاً جوا وغیرہ) کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو۔
نمبر4- کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ جس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
اگر ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلا جائے تو فی نفسہ ایسا ٹورنامنٹ کھیلنےکی اجازت ہے،تاہم ٹورنامنٹ میں یہ شرط رکھنا کہ ہر ٹیم ایک مخصوص رقم جمع کرائے گی اور پھر اس رقم سے ٹورنامنٹ کے اخراجات نکالنے کے بعد جو رقم بچے گی وہ جیتنے والی ٹیم (ونر ٹیم) کو ملے گی، ٹورنامنٹ میں اس طرح کی شرط “قمار” یعنی جوے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے،جس سے بچنا ہر مسلمان کے ذمہ لازم ہے۔
البتہ اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر مختلف ٹیموں میں مقابلہ کروانے کی کوئی علیحدہ ٹورنامنٹ کمیٹی ہو جس کا تعلق کسی ٹیم سے نہ ہو، اور وہ کرکٹ ٹورنامنٹ کمیٹی ہر ٹیم سے مقابلہ میں داخلہ کی فیس کے طور پر متعین رقم (انٹری فیس) وصول کرے اور یہ رقم (انٹری فیس) کمیٹی کو مالک بنا کر دے دی جائے، پھر ٹورنامنٹ کمیٹی اس جمع شدہ رقم میں سے ٹورنامنٹ کے اخراجات کرے اورجیتنے والوں کو یا کھیل میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو حسبِ صواب دید انعام دے اور اس بارے میں مکمل با ختیار ہو کہ کم یا زیادہ جتنا چاہے انعام مقر رکرے اور چاہے نقد رقم انعام میں دے یا کوئی ٹرافی وغیرہ دے تو یہ صورت جائز ہے ، بشرطیکہ مقابلہ اور کھیل میں مذکورہ شرعی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔
تکملۃ فتح الملہم ِ،کتاب الرؤیا(4/435) دارالعلوم کراچی
“فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام اور مكروه تحريماً، . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، … وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به الهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه … وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الاخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه‘‘۔
المحيط البرهاني(كتاب الكراهية والاستحسان، فصل فى المسابقة(5/323)بیروت
“فإن شرطوا لذلك جعلاً، فإن شرطوا الجعل من الجانبين فهو  حرام . وصورة ذلك: أن يقول الرجل لغيره: تعال حتى نتسابق، فإن سبق فرسك، أو قال: إبلك أو قال: سهمك أعطيك كذا، وإن سبق فرسي، أو قال: إبلي، أو قال: سهمي أعطني كذا، وهذا هو القمار بعينه؛ وهذا لأن القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز.. وإن شرطوا الجعل من أحد الجانبين، وصورته: أن يقول أحدهما لصاحبه إن سبقتني أعطيك كذا، وإن سبقتك فلا شيء لي عليك، فهذا جائز استحساناً، والقياس أن لا يجوز۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس