بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کرنسی نوٹوں کا آپس میں تبادلہ

سوال

پھٹے پرانے لیکن رائج الوقت پیسوں کے خریدنے کے متعلق کیا کمی بیشی کے ساتھ لینا سود ہے؟

جواب

ایک ہی ملک کے کرنسی نوٹوں کا تبادلہ برابر سرابر بالاتفاق جائز ہے البتہ کمی بیشی کرنا سود ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں پھٹے پرانے رائج الوقت پیسوں کو کمی بیشی کے ساتھ خریدنا بیچنا سود ہے اس سے بچنا ضروری ہے۔
قال اللہ تعالی 
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ } [البقرة: 278]
البحر الرائق(6/321)رشیدیۃ
(ھو بیع بعض الاثمان ببعض فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بيع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزنا ومن قبض البدلين قبل الافتراق۔
فقہ البیوع(2/735)معارف القرآن
فالصحیح راجح فی زماننا ان مبادلۃ الاوراق النقدیۃ الصادۃ من دولۃ واحدۃ انما تجوز بشرط تماثلھا ،ولا یجوز التفاضل فیھا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس