بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کرایہ دارمکان کی اشیاءتوڑدے توضمان لازم ہوگا؟

سوال

زیدنےبکرکواپناصاف، سُتھرااورعمدہ مکان  کرایہ پردیابکرنےاپنی کُل مدت  اجارہ  میں  مکان میں بہت سارےتصرفات بلااجازت ِمالک مکان کےکیے۔اب جب زیدکامکان بکر خالی کرکےجارہاہےتومکان بہت ہی بُوسیدہ حالت میں ہےکھڑکیاں،الماریاں اورپنکھوں کےبورڈبھی ٹوٹےہیں۔اب صورتِ مذکورہ میں بکرکابِلااجازت زیدتصرفات کرنا کیساہے؟اورخستہ حال مکان جواب تقریباًڈیڑھ دولاکھ کی مرمت کےبعد قابل استعمال ہوسکتاہےاس کاضمان بکرپرڈالا جاسکتاہےیانہیں؟

جواب

سوال میں ذکردہ تفصیل  اگراصل کےمطابق ہےاورواقعۃًبکرنےزیدکےمکان میں اس کی اجازت کےبغیر تصرفات کئےہیں اوران کی وجہ سےمکان کی عمارت کونقصان پہنچاہے۔نیزبکرنےزیدکےمکان کی کھڑکیاں، الماریاں اورپنکھوں کےبورڈبھی توڑدیئےہیں توبکرپراس نقصان کاضمان شرعاًلازم ہوگا۔
الفتاوی التاتاخانیة،العلامةفرید الدین (م:786هـ)(15/201) فاروقیة
–  رجل استاجر من رجل حانوتاً،  وحانوتا  آخر من رجل آخر فنقب احدهما الی الآخر لیرتفق بذلک فانه یضمن ما افسد من الحائط ویضمن اجر الحانوتین بتمامه۔
   الفقه الإسلامي وأدلته، وَهْبَة بن مصطفى الزُّحَيْلِيّ (5/ 3847)دارالفكر
ضمان العين المستأجرة: تعتبر يد المستأجر على العين المستأجرة في إجارة المنافع يد أمانة، فلا يضمن ما يتلف بيده إلا بالتعدي أو التقصير في الحفظ، ويتقيد في الانتفاع بمقتضى العقد وما شُرط فيه وما جرى به العرف۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس