ہماراکتابوں کاکاروبار ہے جس میں کتب کے تبادلہ کاسلسلہ عام ہے ، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک ناشر دوسرے ناشر دکان دار کو کتابیں دیتاہے اور ان کتابوں کی جتنی ثمن ہوتی ہے اور جتنا بل بنتاہے اس کے بدلہ میں پیسے لینے کے بجائے اس سے کتابیں لیتاہے لیکن بعض بڑے دکان دار اس تبادلہ کرنے میں فرق کرتے ہیں ، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ بڑادکان دار اپنی کتابیں دوسرے دکان دار کودیتے وقت اصل قیمت سے مثلاً 55فیصد رعایت کرتاہے جبکہ لیتے وقت 60فی صد رعایتی ریٹ مقرر کرتاہے اگر کسی کتاب کی اصل قیمت سو روپے ہوتو لیتے وقت بڑا دکان دار اس کاریٹ40روپے لگاتاہے جبکہ دیتے وقت ۱۰۰ روپے والی کتاب کاریٹ 45روپے لگاتاہے، جس کانتیجہ یہ نکلے گا کہ اگر دو دکان دار آپس میں سوروپے والی کتابوں کا اس طرح تبادلہ کریں تو بڑے دکان دار کو اسی قیمت والی کتاب کے آٹھ نسخوں پرایک نسخہ کی بچت ہوجاتی ہے، دیتے وقت اس نے جب پینتالیس روپے ثمن مقرر کی تو 360روپے کے آٹھ نسخے پڑیں گے ، اور لیتے وقت 40روپےفی نسخہ مقرر کرنے کی وجہ سے 360روپے کے نو نسخہ ملیں گا، آیا ایساکرنا درست ہے جبکہ دونوں جانب کی کتب کی اصل قیمت کی برابرہیں؟
السنن الكبرى،أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي(م:458هـ)(6/ 29)دارالكتب العلمية
عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” لألقين الله عز وجل من قبل أن أعطي أحدا من مال أحد شيئا بغير طيب نفسه، إنما البيع عن تراض”۔
فقه البيوع، مفتی محمدتقی العثمانی حفظه الله(1/423)معارف القرآن کراتشی
والشرط الثاني هو معلومية الثمن ، وهومن شرائط الصحة دون الانعقاد عند الحنفية ، فالبيع فاسد إن كان الثمن مجهولا