نمبر1۔ ہدایہ اولین۔ نمبر2۔ قدوری۔ نمبر3۔ جلالین۔ نمبر4۔ نور الانوار وغیرہ۔ انہوں نے بیچتے ہوئے یہ شرط لگائی تھی کہ آپ آگے نہیں بیچ سکتے۔ نمبر1۔ کیا یہ شرط لگانا صحیح تھا۔ نمبر2۔ اب ہم چھاپ بھی نہیں رہے۔( دو چار ایڈیشن چھاپے ہوں گے) تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ آگے ہمارے پاس اس کا خریدار موجود ہے تو اب ہمارے لیے کیا شرعی حکم ہے؟
صورت مسؤلہ میں آپ کے بھائی نے آپ کو مذکورہ کتابوں کے شائع کرنے کی اجازت دی اور اس کا عوض بھی لیا تو شرعا اجارہ ہے بیع نہیں اور عقد طے کرتے ہوئے آگے کسی کو نہ بیچنے اور کسی اور کو اشاعت کی اجازت نہ دینے کی جو شرط لگائی ہے اس شرط کا لگانا درست ہے اور آپ چونکہ مالک نہیں تو آپ کو آگے کسی اور کو بیچنے کا اختیار بھی نہیں ۔ اس شرط کی پاسداری کرنا آپ پر ضروری ہے۔
بحوث قضايا فقهيه معاصره( ص ١٢٥ )مكتبه معروفية
والدليل الأخير للمانعين هو : إن الاحتفاظ بحقوق الطباعة يضيق دائرة انتشار الكتاب، ولو كان لكل أحد حق في طبع الكتاب ونشره لكان انتشاره أوسع وإفادته أعم وأشمل ! و هذا أمر واقع لا مجال لإنكاره ، ولكن الدليل ينقلب إذا نظرنا من ناحية أخرى، وهي أن المبتكرين لو لمنعوا حق أسبقيتهم بالاسترباح مما ابتكروه لفشلت هممهم عن اقتحام المشاريع الكبيرة من أجل الاختراعات الجديدة حينما يرون أن ذلك لا يدر إلا ربحاً بسيطاً، وإن مثل هذه الأمور التي تحتمل وجهين لا تفصل القضايا الفقهية ما دام الشيء ليس فيه محظور شرعي، فإن جميع المباحات فيها ما يضر وينفع۔
فقه البيوع (۲۸۰/۱) معارف القرآن
فإن نقل هذا الحق الى من اشتراه بصفة دائمة فإنه بيع، وإن نقل إليه مدة معلومة فإنه إجارة يجب أن تراعي في أحكام الإجارة وبما أن هذه النوع من حق الامتياز يمنح اليوم عادة لمدة معلومة في مكان معلوم وليس بصفة دائمة فمحل الأحكام المتعلقة بها كتاب الإجارة ۔