بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کاشتکار کو کھاد فراہم کرکے تمام گنا شوگر مل کو فروخت کرنے کا پابند بنانا، متبادل جائز صورت

سوال

کاشتکار حضرات کو شوگر ملز والے کھاد، دوائی وغیرہ ادھار پر قرض دیتے ہیں ، جس کا ریٹ بھی متعین کر لیتے ہیں، رقم لیٹ کرنے پر بھی کوئی اضافی رقم نہیں لیتے، لیکن وہ کاشتکار کو جو فارم دیتے ہیں اس میں تحریری طور پر پابند کرتے ہیں کہ کاشتکار ملز ہذا کو سارا گنا سپلائی کرے گا، جس پر کا شتکار کوئی اعتراض نہیں کرے گا، یاد رہے کہ ملز کے ملازم اپنے طور پر کہہ دیتے ہیں کہ کہ صرف قرض جتنا گنا ملز میں دیں باقی آپ کی مرضی اور باقی گنا نہ دینے کی صورت میں کوئی کارروائی بھی نہیں کرتے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ قرض سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ قرض لینا جائز ہے یا نہیں۔
نوٹ: شوگر ملز والے بینک سے قرض لیتے ہیں سود پر پھر اسی پیسوں سے کھاد،دوائی وغیرہ لیتے ہیں کھاد، دوائی اپنے قبضہ میں لیکر پھر کاشتکاروں کو دیتے ہیں۔ تحریری جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ شوگر مل والے کا شتکار کو کھاد اور ادویات اس شرط پر فروخت کرتے ہیں کہ کاشتکار گنا شوگر مل کو ہی فروخت کرے گا ۔ اس میں ایک عقد کو دوسرے عقد کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے اس لیے اس طرح معاملہ کرنا شرعا درست نہیں ۔ اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
اس کا متبادل یہ ہے کہ شوگر مل والے کاشتکار کے ساتھ بیع سلم کر لیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ شوگر مل کو جس قدر گنے کی ضرورت ہے اس کی مقدار ، وصف طے کر لیں اور پھر اس کا ریٹ بھی متعین کر کے طے شدہ مکمل رقم کاشتکارکو اسی مجلس میں نقد دے دیں ۔نیز بیع سلم میں اس کی شرائط کا لحاظ ضروری ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہیں :
نمبر1-فروخت کی جانے والی چیز کی جنس بیان کردی جائے کہ : گنا ہے ،گیہوں ہے یا جو۔
نمبر2- نوع بیان کردی جائے کہ “گنا” کس قسم کی زمین کا ہوگا۔
نمبر3- صفت بیان کردی جائے کہ عمدہ ہوگا یا گھٹیا۔
نمبر4-مقدار بیان کردی جائے کہ کتنا “گنا” لینا ہے۔
نمبر5- مدت معین کرلی جائے کہ کس وقت “گنا” حوالہ کرنا ہے ۔
نمبر6- جس قدر” گنا” لینا ہو اس کا باہمی طے شدہ متعین نرخ پہلے ہی یعنی بوقت عقد دے دیا جائے۔
نمبر7-” گنا” کس جگہ پر حوالہ کیا جائے گا اس کو بھی معین کر لیا جائے۔
مندرجہ بالا کسی ایک شرط کے بھی فوت ہونے کی صورت میں سلم کا معاملہ فاسد ہو جائے گا۔
شرح السنة للبغوي (8/ 147)
وقد روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع وشرط
بدائع الصنائع (5/ 169)
(ومنها) شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري أو للمبيع
“رد المحتار “
“(و) لا (بيع بشرط) … (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، … (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه، أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد
(قوله ولا بيع بشرط) شروع في الفساد الواقع في العقد بسبب الشرط «لنهيه صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط» ، لكن ليس كل شرط يفسد البيع نهر. وأشار بقوله بشرط إلى أنه لا بد من كونه مقارنا للعقد؛ لأن الشرط الفاسد لو التحق بعد العقد، قيل يلتحق عند أبي حنيفة، وقيل: لا وهو الأصح
العناية (7/ 90)
قال (ولا يصح السلم عند أبي حنيفة إلا بسبع شرائط) صحة السلم موقوفة على وجود سبع شرائط عند أبي حنيفة – رحمه الله -.  وعندهما على خمسة، فأما المتفق عليه فهو أن يكون في جنس معلوم حنطة أو غيرها ونوع معلوم سقية أو بخسية. والبخسي خلاف السقي منسوب إلى البخس، وهي الأرض التي تسقيها السماء؛ لأنها مبخوسة الحظ من الماء. وصفة معلومة جيدة أو رديئة، ومقدار معلوم عشرين كرا بمكيال معروف أو عشرين رطلا، وأجل معلوم
والأصل في ذلك من المنقول ما روينا من قوله – صلى الله عليه وسلم – «من أسلم منكم» إلخ، ومن المعنى الفقهي ما بينا أن الجهالة فيه مفضية إلى النزاع. فأما المختلف فيه (فمعرفة مقدار رأس المال إن كان مما يتوقف على مقداره كالمكيل والموزون والمعدود) (وتسمية المكان الذي يوفيه فيه إذا كان له حمل ومؤنة)
البناية (8/ 346)
(ونوع معلوم كقولنا سقية) ش: أي سقيته. وفي ” المغرب ” السقية ما يسقى سحا م: (أو بخسيه) ش: بفتح الباء الموحدة وسكون الخاء المعجمة وكسر السين المهملة وتشديد الياء آخر الحروف وبالهاء، وهي الحنطة المنسوبة إلى البخس، وهي الأرض التي تسقيها السماء لأنها مبخوسة الحظ من الماء
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس