بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کاروبار میں کسٹمر لانے پر اجرت طے کرنا

سوال

اگر کاروبار میں کسٹمر لانے پر اجرت کے طور پر کچھ نسبت طے کرلیں اور جب تک یہ کسٹمر آپ کے پاس رہے میری ماہانہ اجرت جاری رہے۔ ایسا کرنا کیسا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

کاروبار کے لیے کسٹمر لانے کی اجرت طے کرکے لینا درست ہے لیکن کسٹمر لانے کی وجہ سے نفع میں شرکت کا معاہدہ کرنا درست نہیں ہے۔
الفتاوی الھندیۃ (4/462) دار الکتب العمیۃ بیروت
ومنھا ان تکون الاجرۃ معلومۃ۔
بدائع الصنائع(6/20)  دارالکتب العلمیۃ بیروت
والاصل فی شرط العلم بالاجر قول النبی ﷺ من استاجر اجیرا فلیعلمہ اجرہ۔
البنایۃ فی شرح الھدایۃ (9/274)  رشیدیۃ
(والاجرۃ معلومۃ) ش: وھذان لا خلاف فیھما م:(لما روینا) ش: اشاربہ علی قولہ علیہ السلام [من استاجر اجیرا فلیعمہ اجرہ] فالحدیث دل بعبارتہ علی اشتراط اعلام الاجرۃ وبدلالتہ علی اشتراط اعلام المنافع؛ لان اشتراط اعلامھا لقطع المنازعۃ فالمنفعۃ تشارکھا فی المعنی م: ( ولا الجہالۃ فی المعقود علیہ، وفی بدلہ تقضی الی المنازعۃ کجھالۃ الثمن والثمن فی البیع) ش: لان شرعیۃ المعاوضات لقطع المنازعات والجھالۃ فیھما مفضیۃ الیھا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس