میں نے ایک صاحب کےساتھ رنگ(پینٹ،ماسٹر پینٹ)کے کاروبار میں دو سال سے 10 لاکھ روپے کا شیئر ڈالا ہےجس کا مہینے کا منافع ہمیں کبھی 15000 اور کبھی 500، 5 1ملتا ہے، ان دو سالوں میں ہم نے زکوة ادا نہیں کی۔ جتنا منافع آتا ہے ماہانہ خرچ ہو جاتا ہے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرتے اور میرے پاس فی الحال سونا،چاندی کچھ بھی نہیں ہے۔ برائے مہربانی آپ یہ بتائیں کہ زکوة 10 لاکھ پر بنتی ہے یا 15000 پر، سالانہ اور مہینے دونوں کاحساب واضح کردیں۔ وہ صاحب صرف اپنے حصہ کی زکوۃ ادا کرتے ہیں، ہمارے حصہ کی نہیں ۔ آیا ہمیں بھی اپنے منافع پر زکو ۃادا کرنی ہوگی یا نہیں؟
آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ10 لاکھ کے آپ مالک ہیں ، اور یہ رقم صاحب نصاب ہونے کے لئے کافی ہے، کیونکہ یہ مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے بہت زیادہ ہے، چنانچہ کاروبار میں لگائی گئی رقم کی زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جس تاریخ کو آپ صاحب نصاب بنے تھے ، اگر وہ تاریخ یاد ہو تو اسی تاریخ کو ، ورنہ اندازہ اور سوچ و بچار کے ساتھ ایک تاریخ قمری مہینہ کے اعتبار سے متعین کرلیں، پھر ہر سال یہ تاریخ آنے پر دوکان میں موجود کل سامان کی ہول سیل قیمت فروخت کے اعتبار سے مالیت کا حساب لگا کر اس سے اپنے حصے کی مالیت پر زکوۃ(ڈھائی فیصد ) اداء کریں۔ واضح رہے کہ کہ گذشتہ سالوں کی زکوۃ بھی اسی طرح حساب کر کے اداء کرنا ہوگی۔