ایک شخص (جو اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہے)نے اپنے معمولی سرمایہ سے سب سے پہلے کاروبار شروع کیا ،وقت گزرنے کے ساتھ اس کے چھوٹے بھائی اور اس کے بیٹے بڑے ہوتے رہے اور اس کے ساتھ کاروبار میں معاون بنتے رہے، اس طرح سے یہ کاروبار ایک شخص اور اس کے چھ بھائی اور چار بیٹے (کل گیارہ افراد) مل جل کرکرتے رہے ،اور وہ سب اکٹھے رہتے رہے ، اس نے سب بھائیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ شادیاں اپنے بیٹوں کی طرح کی، وہی گھر کے سربراہ تھے ،بھائیوں کے ہرطرح کےا خراجات کی ذمہ داری اس پر تھی، باورچی خانہ بھی ایک تھا، اب کثرتِ عیال کی وجہ سے باورچی خانے دوکردئیے ہیں ،اس طرح سے سب مل جل کر رہتے رہے اور کاروبار بھی کرتے رہے ، سب سمجھتے تویہی تھے کہ یہ ہمارا مشترکہ کاروبار ہے لیکن کسی موقع پر ان کے درمیان شرکت کاکوئی معاہدہ نہیں ہوا،اس وقت ماشاء اللہ ان سب کی محنت سے کاروبار میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت عطافرمادی ہے، اب وہ اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدن کوتقسیم کرنا چاہتے ہیں ،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس تقسیم کاکیاطریقہ کار ہوگا، اور کیا ایک شخص کے بھائیوں کے ساتھ اس کے چار بیٹوں کوبھی برابرحصہ ملے گایانہیں ؟ جبکہ وہ بھی کاروبار میں شریک رہے۔
سوال میں جو صورتِ حال ذکرکی گئی ہے اگر وہ واقعہ کے مطابق ہے اور اصل کاروبار مذکورہ شخص نے اپنے ذاتی سرمایہ سے شروع کیاتھا، بیٹوں اوردوسرے بھائیوں نے نہ تو سرمایہ لگایااور نہ ہی ان کے ساتھ شرکت کا کوئی معاملہ طے ہوا تو ایسی صورت میں کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا مالک مذکورہ شخص ہے، اس کے بیٹے اور بھائی شرعاً اس کاروبار میں شریک نہیں ہیں بلکہ بیٹے صرف معاون اور متبرع ہیں ،وہ اپنی صوابدیدکے مطابق ان کو حصہ دے سکتے ہیں جبکہ بھائیوں کوملازم قرار دیا جائے گااوران کوان کی محنت کی وجہ سے اجرتِ مثل (یعنی ایسے کام کی عمومی طورپر جتنی مزدوری بنتی ہے )ملے گی اور اتنے عرصہ میں جتنامال وہ وصول کرچکے ہیں تخمینہ لگاکر اس کو اجرت میں سے منہاکردیاجائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ حکم اس وقت ہے جب مذکورہ شخص نے اپنے ذاتی سرمایہ سے یہ کاروبار شروع کیا ہو ، اپنے والد مرحوم کے متروکہ مشترکہ وراثت سے نہ شروع کیاہو ،نیزاس کااپنے بھائیوں کے ساتھ شرکت کامعاملہ بھی طے نہ ہوا ہو لیکن اگر صورت ِ حال اس سے مختلف ہوتو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ جواب معلوم کرلیں۔
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،العلامة ابن عابدين،(م: 1252ھ)(2/ 17)دار المعرفة
(سئل) في ابن كبير له عيال وكسب مات أبوه عنه وعن ورثة يدعون أن ما حصله من كسبه مخلف عن أبيهم ويريدون إدخاله في التركة فهل حيث كان له كسب مستقل يختص بما أنشأه من كسب وليس للورثة مقاسمته في ذلك ولا إدخاله في التركة؟(الجواب) : نعم (سئل) في رجل ساكن في بيت أبيه في جملة عياله وصنعتهما متحدة يعينه بتعاطي أموره ولا يعرف للابن مال سابق فاجتمع مال بكسبه ويريد أن يختص به بدون وجه شرعي فهل جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه ولا شيء له فيه؟(الجواب) : نعم جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه لا شيء له فيه حيث كان من جملة عياله والمعين له في أموره وأحواله وصنعتهما متحدة ولا يعرف للابن مال سابق؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع كما صرح بذلك في الخلاصة والبزازية۔
الأشباه والنظائر،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970ھ)(1/245)دارالكتب العلمية
أسباب الملك ثلاثة مثبت للملك من أصله وهو الاستيلاء على المباح وناقل بالبيع والهبة ونحوهما، وخلافة كملك الوارث۔
الفتاوى الهندية،نظام الدين البلخي(2/329)دارالفكر
أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب وكذا الحكم في الزوجين إذا لم يكن لهما شيء ثم اجتمع بسعيهما أموال كثيرة فهي للزوج وتكون المرأة معينة له إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، كذا في القنية. وما تغزله من قطن الزوج وينسجه هو كرابيس فهو للزوج عندهم جميعا، كذا في الفتاوى الحمادية۔