بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ڈی ایس پی فنڈ

سوال

میں ایک فو جی ملازم ہوں اور ہمارے ہاں “ڈی ایس پی “فنڈ ہو تا ہے جو کہ کچھ رقم بحکم حکو مت جمع کرانا لازم ہوتا ہے وہ ہے 500، اگر اس سےزیا دہ ہم جمع کروانا چاہتےہیں تو اس کی بھی اجازت ہے، حکومت ہمیں تنخواہ دینے سےپہلے اس رقم کی کٹو تی کر لیتی ہے یہ بڑھتی بڑھتی جب لاکھ پرپہنچ جاتی ہے تو اس کے بعد نفع ملتا ہے اور اس نفع کی مقدار مقرر نہیں ،یہ دس (10) سےپندرہ (15) فیصد ہوتا ہے کبھی کتنےفی صد کبھی کتنےفی صد، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ رقم حکو مت کس ادارہ کو دیتی ہےبہر حال حکو مت جس ادارے کو دیتی ہے اس ادارے سے حکو مت خود وصول کرتی ہے،اس کے بعد ہم حکو مت سے وصول کر تے ہیں بمع نفع ،اور ہم اس رقم میں کسی قسم کے نقصان کے شریک نہیں ہوتے ۔
کچھ لوگ اس 500،کی بجا ئے مثلا 5000یا 7000 جمع کرواتے ہیں تا کہ نفع زیادہ ملے کیونکہ رقم کے بڑھنے کے سا تھ ساتھ نفع بھی بڑھتاہے ،کیا یہ رقم جمع کر وانے سے سود میں تو نہیں آتا ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں ڈی ایس پی کی مدمیں ملازم کی تنخواہ سےجوپانچ سوروپےلازمی اورجبری طورپرماہ بماہ کاٹےجاتےہیں اس کےساتھ ملنےوالی اضافی رقم حکومت یا ادارےکی طرف سےعطیہ ہے، شرعاسودنہیں، لہذاملازم کےلئےاپنی اصل رقم بمع نفع وصول کرنا اوراپنےاستعمال میں لاناجائزہے۔لیکن اپنےاختیارسےکروائی گئی کٹوتی پرملنےوالی اضافی رقم کالینادرست نہیں، اسےوصول کرنےسےاجتناب کیاجائے۔
البحر الرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970ھ)(7/300)
(قولہ والأجرة لا تملك بالعقد) لأن العقد ينعقد شيئا فشيئا على حسب حدوث المنفعة على ما بينا والعقد معاوضة ومن قضيتہا المساواة فمن ضرورة التراخي في جانب المنفعة التراخي في جانب البدل الآخر فلا يعتق قريب المؤجر لو كان أجرة ولا يملك المطالبة بتسليمہا للحال ولا يلزم علينا صحة الإبراء عن الأجرة والكفالة والرہن بہا لأنا نقول ذاك بناء على وجود السبب فصار كالعفو عن القصاص بعد وجود الجرح كذا في غاية البيان لكن في المحيط أن جواز الإبراء قول محمد خلافا لأبي يوسف وأشار المصنف إلى أنہما لو تصارفا بالأجرة فأخذ بالدراہم دنانير لا يجوز وہو قول أبي يوسف خلافا لمحمد وإن كانت الأجرة نقرة بعينہا لا تجوز المصارفة بہا بالإجماع والإبراء عن بعض الأجرة صحيح اتفاقا لأنہ بمنزلة الحط كذا ذكرہ الولوالجي (قولہ بل بالتعجيل أو بشرطہ أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من ہذہ الأربعةالخ۔
البناية شرح الہداية،العلامة بدرالدين العينى(م:855ھ)(8/293)دار الكتب العلمية
لا يجوز لاحتمال الربا، والشبہة فيہ كالحقيقة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس