میں ایک فو جی ملازم ہوں اور ہمارے ہاں “ڈی ایس پی “فنڈ ہو تا ہے جو کہ کچھ رقم بحکم حکو مت جمع کرانا لازم ہوتا ہے وہ ہے 500، اگر اس سےزیا دہ ہم جمع کروانا چاہتےہیں تو اس کی بھی اجازت ہے، حکومت ہمیں تنخواہ دینے سےپہلے اس رقم کی کٹو تی کر لیتی ہے یہ بڑھتی بڑھتی جب لاکھ پرپہنچ جاتی ہے تو اس کے بعد نفع ملتا ہے اور اس نفع کی مقدار مقرر نہیں ،یہ دس (10) سےپندرہ (15) فیصد ہوتا ہے کبھی کتنےفی صد کبھی کتنےفی صد، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ رقم حکو مت کس ادارہ کو دیتی ہےبہر حال حکو مت جس ادارے کو دیتی ہے اس ادارے سے حکو مت خود وصول کرتی ہے،اس کے بعد ہم حکو مت سے وصول کر تے ہیں بمع نفع ،اور ہم اس رقم میں کسی قسم کے نقصان کے شریک نہیں ہوتے ۔
صورتِ مسئولہ میں ڈی ایس پی کی مدمیں ملازم کی تنخواہ سےجوپانچ سوروپےلازمی اورجبری طورپرماہ بماہ کاٹےجاتےہیں اس کےساتھ ملنےوالی اضافی رقم حکومت یا ادارےکی طرف سےعطیہ ہے، شرعاسودنہیں، لہذاملازم کےلئےاپنی اصل رقم بمع نفع وصول کرنا اوراپنےاستعمال میں لاناجائزہے۔لیکن اپنےاختیارسےکروائی گئی کٹوتی پرملنےوالی اضافی رقم کالینادرست نہیں، اسےوصول کرنےسےاجتناب کیاجائے۔
البحر الرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970ھ)(7/300)
(قولہ والأجرة لا تملك بالعقد) لأن العقد ينعقد شيئا فشيئا على حسب حدوث المنفعة على ما بينا والعقد معاوضة ومن قضيتہا المساواة فمن ضرورة التراخي في جانب المنفعة التراخي في جانب البدل الآخر فلا يعتق قريب المؤجر لو كان أجرة ولا يملك المطالبة بتسليمہا للحال ولا يلزم علينا صحة الإبراء عن الأجرة والكفالة والرہن بہا لأنا نقول ذاك بناء على وجود السبب فصار كالعفو عن القصاص بعد وجود الجرح كذا في غاية البيان لكن في المحيط أن جواز الإبراء قول محمد خلافا لأبي يوسف وأشار المصنف إلى أنہما لو تصارفا بالأجرة فأخذ بالدراہم دنانير لا يجوز وہو قول أبي يوسف خلافا لمحمد وإن كانت الأجرة نقرة بعينہا لا تجوز المصارفة بہا بالإجماع والإبراء عن بعض الأجرة صحيح اتفاقا لأنہ بمنزلة الحط كذا ذكرہ الولوالجي (قولہ بل بالتعجيل أو بشرطہ أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من ہذہ الأربعةالخ۔
البناية شرح الہداية،العلامة بدرالدين العينى(م:855ھ)(8/293)دار الكتب العلمية
لا يجوز لاحتمال الربا، والشبہة فيہ كالحقيقة