دوبھائی شراکت کی صورت میں کاروبار کررہے ہوں تو تیسرے بھائی کو شامل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے کاروبار کا حساب لگائیں اور یہ بھی حساب لگائیں کہ تیسرا بھائی جتنی رقم دےرہاہے مکمل کاروبار سے اس کی کیانسبت ہے ، جونسبت نکل آئے تیسرا بھائی پورے کاروبار میں اسی نسبت کے لحاظ سے شریک سمجھاجائے گا اور نفع کی تقسیم بھی باہمی رضامندی سے فیصدی لحاظ سے طے کرلیں، رقم کی کوئی متعین مقدار طے کرنادرست نہیں نیز واضح رہے کہ نقصان میں تینوں شرکاء اپنے اپنے حصوں کی بقدر شریک ہوں گے۔
بدائع الصنائع، علاء الدين،أبو بكر بن مسعود الكاساني(م: 587ھ)دارالكتب العلمية:(6/ 59)
والحيلة في جواز الشركة في العروض وكل ما يتعين بالتعيين أن يبيع كل واحد منہما نصف مالہ بنصف مال صاحبہ، حتى يصير مال كل واحد منہما نصفين، وتحصل شركة ملك بينہما، ثم يعقدان بعد ذلك عقد الشركة، فتجوز بلا خلاف ولو كان من أحدہما دراہم، ومن الآخر عروض، فالحيلة في جوازہ: أن يبيع صاحب العروض نصف عرضہ بنصف دراہم صاحبہ، ويتقابضا، ويخلطا جميعا حتى تصير الدراہم بينہما، والعروض بينہما، ثم يعقدان عليہما عقد الشركة فيجوز۔