بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چاربهائی،ایک بیوی اورتین بیٹیوں کےدرمیان تقسیمِ میراث

سوال

پانچ بھائی ہیں جوکہ ایک مکان میں شریک ہیں جس کی مالیت 72لاکھ روپے ہے۔صورتِ حال یہ ہےکہ ان میں سےایک بھائی وفات پاچکاہے،اس کی ایک بیوی ،تین بیٹیاں ہیں جبکہ بیٹاکوئی نہیں اورماں باپ ،دادا دادی اورنانی بھی وفات پاچکےہیں توہرایک کےحصہ میں کتنی رقم آئےگی ؟یعنی چاربھائی ایک بیوی،تین بیٹیاں ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ مكان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے اس ميں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ، اگر وہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور ِ احسان ادا کئے ہوں تو اب وه کُل ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم پر کسی کا واجب الاَداء قرضہ ہو تو بقیہ ترکہ سے اسے ادا کیا جائے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی ایک تہائی كی حدتک اس پر عمل کیا جائے، ا س کے بعدبقيہ مال کا آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو،دوتہائی بیٹیوں کو اور بقیہ مال بھائیوں کو دیدیاجائے، جس کی تفصیل یوں ہے کہ اس بقيہ مال کے کل دوسو اٹھاسی (۲۸۸) مساوی حصے کرکےمرحوم کی بیوہ کوچھتیس(۳۶)حصے ،ہربیٹی کوچونسٹھ(۶۴)حصے اورہربھائی کو پندرہ(۱۵)حصے دیے جائیں۔
واضح رہےکہ مذکورہ مکان میں مرحوم کےساتھ اس کےچاربھائی بھی شریک ہیں؛ لہذاسب سےپہلے اس مکان کوان پانچ بھائیوں میں تقسیم کرلیاجائے،اس کےبعدمرحوم بھائی کوجوحصہ ملےگا،اس کومذکورہ طریقہ کےمطابق تقسیم کردیں

تقسیمِ میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے

مسئلہ     24تص288                                            مضروب 12

بھائی 4 بیٹیاں 3 بیوہ
عصبہ ثلثان ثمن
5 16 3
60 192 36
فی بھائی 15 فی بیٹی 64
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس