بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پنچائیت والوں کا زانی پر جرمانہ عائد کرنا

سوال

ایک مسئلے میں شرعی راہنمائی کی ضرورت ہے، راہنمائی فرما کر ممنون ہوں۔ ہمارے علاقے میں یہ رائج ہے کہ جب کبھی لڑکے اور لڑکی سے ناجائز تعلقات کی پاداش میں کوئی غلط کاری ہو جائے تو اہلِ علاقہ میں سے جو با اثر شخصیات سمجھی جاتی ہیں وہ پنچائت کی صورت میں لڑکے کو مجرم قرار دے دیتی ہیں اور لڑکی کو اس جرم سے بری الذمہ قرار دے دیتی ہیں اور بھاری قسم کا جرمانہ لڑکے یا اس کے خاندان پر عائد کرتے ہیں اب معلوم یہ کرنا تھا کہ
نمبر1۔کیا صرف لڑکے کو مجرم قرار دینا اور لڑکی کو بری الذمہ قرار دینا جائز ہے ؟
نمبر2۔کیاپنچائت کا لڑکے پر چھ لاکھ روپے تک جرمانہ ڈالنا شرعاً جائز ہے ؟
نمبر3۔کیا اس جرمانہ ڈالنے کو شرعی حد (جو کہ زانی اور مزنیہ کے متعلق قران مجید میں وارد ہوا ہے) پر زیادتی قرار دینا غلط ہے ؟
نمبر4۔کتب فقہ میں جہاں تحکیم کے باب میں یہ آتا ہے کہ حَکم کا فیصلہ حدود و قصاص میں معتبر نہیں ہے اس زمرے میں زنا کے متعلق فیصلہ کرنا بھی داخل ہوگا ؟
نمبر5۔کیا اس پنچائت کے اس فیصلے کے رد میں مشکوٰۃ المصابیح: کتاب الحدود، الفصل الاول (صفحہ 309 طبع:اسلامی کتب خانہ )عن ابی هريرة۔۔۔۔إلی أن قال رسول الله صلی الله عليه وسلم:” أمّاغنمک وجاریتک فرد علیک الخ”کی روایت سے استدلال کرنا درست ہے یا غلط؟ اگر درست ہو تو یہ استدلال قوی ہے یا نہیں؟ ۔

جواب

واضح رہے کہ حدود و قصاص کے مقدمات میں حد یا قصاص کے اجراء میں پنچائت اور جرگہ کا فیصلہ شرعاًمعتبر نہیں ہے ،اس کا اختیار صرف حاکمِ وقت اور قاضی وعدالت کو ہے اسی طرح تعزیر جاری کرنے کا اختیار بھی عدالت کو ہے البتہ جس کمیٹی یا جرگہ کو حکومت یا عدالت نے یہ اختیار دیا ہو تو وہ بھی تعزیر جاری کر سکتی ہے اور تعزیر میں کوڑے لگانا بھی جائز ہے اور حنفیہ کے ایک قول کے مطابق مالی جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے ،اور اگر اس کمیٹی کو حکومت یا عدالت کی طرف سےتعزیر جاری کرنے کا اختیارنہیں ہے تو یہ کمیٹی کوئی سزا جاری نہیں کر سکتی ۔ اسی طرح کہیں پر باہمی رضا مندی اور اتفاقِ رائے سے پنچائت مقررکر دی جائے اور وہ گنا ہ اور معاصی کے سدِ باب کے لئے حدود و قصاص کے مقدمات کے علاوہ فریقین کے درمیان صلح وغیرہ کا فیصلہ کرےتو اس کی چندشرائط کے ساتھ اجازت ہے۔
سز امیں کسی ایک پر زیادتی نہ ہو (۲) خلاف شرع کوئی فیصلہ نہ کرے(3) فریقین کے مجرم ہونے کی صورت میں کسی کو بری کر کے دوسرے پر مال لازم نہ کرے (4)پنچائت میں شامل لوگ عاقل، بالغ اور فیصلہ کے اہل ہوں، مکالمہ فہم ہوں، بہتر ہے کہ مستند علما ءکو بھی شامل کیا جائے ۔
اب مذکورہ سوالات کے جوابات درجہ ذیل ہیں۔
نمبر1۔ 2-پنچائت کیلئے حقائق کو نظر انداز کرکے کسی ایک فریق کو بَری کرکے دوسرے پر مال لازم کرنا شر عًا درست نہیں ہے۔
نمبر3۔4 -حدِ زنا کا فیصلہ بھی انہی اُمور سے متعلق ہے جن کا اختیار عام پنچائت کو حاصل نہیں ہے۔
نمبر5 -پنچائت کی حیثیت کی تعیین کرنے میں مذکور ہ حدیث سے استدلال کرنا درست ہے ۔
عمدةالقاري(24/7)رشيدية
وفي الحديث فوائد….وماقبضه الذي قضى له بالباطل لايصح أن يكون ملكاله
فتح الباري(15/172)فاروقية
وفيه أن الحدلايقبل الفداءوهومجمع عليه في الزناوالسرقة والحرابة وشرب المسكر….وأن الصلح المبني على غيرالشرع يردويعادالمال المأخوذفيه
البحر الرائق (7/ 43)رشيدية
(قوله حكمارجلاليحكم بينهمافحكم ببينة أوإقرارأونكول في غير حد وقود ودية على العاقلة صح لو صلح المحكم قاضيا) لما قدمناه من الدلائل وشرط أن يكون حكمه بحجة من الثلاث ليوافق حكم الشرع وإلا يقع باطلا وظاهره أنه لا يحكم بعلمه ولم أره صريحا ولم يصح حكمه في الحدود والقصاص؛ لأن تحكيمهما بمنزلة صلحهما ولا يملكان دمهما ولذا لا يباح بالإباحة وكذا لا ولاية لهما على العاقلة فلا ينفذ حكمه عليها ولا على القاتل بالدية وحده لمخالفة النص فكان باطلا
الدر المختار (8/ 142)رشيدية
صح لو في غير حد وقود ودية على عاقلة الأصل أن حكم المحكم بمنزلة الصلح وهذه لا تجوز بالصلح فلا تجوز بالتحكيم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس