بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پلاٹ بک کروانے کے بعد سکیم والوں کا وعدہ خلافی کرنا

سوال

مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ میں نے ایک ہاوسنگ سکیم میں اپنا پلاٹ بک کروایا ،جس جگہ میرا پلاٹ بک ہوا تھا وہ جگہ اس وقت سیکم والوں کی ملکیت میں نہیں تھی، انہوں نے خرید کر وہاں پلاٹننگ کرکے ہمیں پلاٹ دیتا تھا،لیکن وہ جگہ ان کو نہیں مل سکی ، اس عرصے میں میں نے طےشدہ پوری رقم ادا کردی۔ اب سکیم والےیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جگہ ہمیں نہیں مل سکی، ہم آپ کو دوسری مملوکہ جگہ سے پلاٹ دے دیتے ہیں،لیکن اس کےلئے سابقہ وعدہ کی گئی رقم کے بجائے موجودہ ریٹ کے حساب سے آپ کو ادائیگی کرنی ہوگی۔جبکہ خریدارکا کہنا ہے کہ جس قیمت پر وعدہ ہوا تھا اسی پر دیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ سکیم والوں کی ذاتی ملک میں جب زمین موجود ہے اس کے باوجود بھی سابقہ وعدہ بیع کے مطابق زمین نہ دینے کی صورت میں وعدہ خلافی کا گناہ ان پر ہوگا یا نہیں۔ نیز کیا اس وعدے کا پورا کرنا ان لازم ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہاوسنگ سکیم والوں کا اپنی ملکیت میں زمین لائے بغیر اس کی فروخت کےلئے پلاٹنگ کی بکنگ کروانا اور لوگوں کو دھوکہ میں رکھنا شرعًا درست نہیں ۔ جب ان کو بعد میں متبادل زمین مل گئی ہے تو اب اس وعدہ کے مطابق پرانی ریٹ پر پلاٹ فراہم کرنا ضروری ہے اور وعدہ خلافی کی صورت میں گناہ گار ہوں گے۔ لیکن اگر وہ کسی معقول عذر کی وجہ سے سابقہ ریٹ پر پلاٹ لوگوں کو فراہم نہیں کرسکتے تو چونکہ وہ ایک وعدہ بیع تھا باقاعدہ بیع نہیں ہوئی تھی اس وجہ سے اگر خریدار اپنی رضامندی سے نئے ریٹ پر پلاٹ لینا چاہیں تو ٹھیک ہے ورنہ سوسائٹی کی طرف سے زبردستی پلاٹوں کا نیا ریٹ خریداروں پر مسلط کرنا شرعًا درست نہیں۔
قال الله تعالى
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} [المائدة: 1]
أحكام القرآن للجصاص  (5/ 334) دار إحياء التراث العربي
قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون كبر مقتا عند الله أنتقولوا ما لا تفعلون. قال أبو بكر يحتج به في أن كل من ألزم نفسه عبادة أو قربة وأوجب على نفسه عقدا لزمه الوفاء به إذ ترك الوفاء به يوجب أن يكون قائلا ما لا يفعل وقد ذم الله فاعل ذلك وهذا فيما لم يكن معصية فأما المعصية فإن إيجابها في القول لا يلزمه الوفاء بها. وقال النبي صلى الله عليه وسلم لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين۔
وإنما يلزم ذلك فيما عقده على نفسه مما يتقرب به إلى الله عز وجل مثل النذور وفي حقوق الآدميين العقود التي يتعاقدونها وكذلك الوعد بفعل يفعله في المستقبل وهو مباح فإن الأولى الوفاء به مع الإمكان۔
رد المحتار (5/ 58) سعيد
(قوله لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما ببيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح۔
رد المحتار (4/505)سعيد
 وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم…ومعلومية المبيع، ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس