میرے پردادا کا انتقال ہواجن کی بیوی کا پہلے انتقال ہو گیا تھا البتہ میرے پردادا کے انتقال کا وقت دو(2) بیٹے اور دو (۲) بیٹیاں زندہ تھیں۔پر دادا کا ایک مکان تھا جو ایک کروڑ پانچ لاکھ پچیس ہزار روپے میں فروخت ہوا۔ اس کے بعد ان کا ایک بیٹا عبد الحمید ( جو کہ میرے دادا تھے) ان کا انتقال ہوا، دادی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا البتہ دادا کے انتقال کے وقت ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی زندہ تھی۔ پھر پر دادا کی ایک بیٹی کا انتقال ہوا ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں دو بیٹے او دوبیٹیاں زندہ تھے شوہر کا پہلے سے انتقال ہو گیا تھا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ رقم کی تقسیم کس طرح ہوگی اور کس کس وارث کے حصے میں کتنی رقم آئے گی۔ برائے کرم ہر وارث کے حصے کی رقم کی وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔ نیز یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ میرے پردادا کی جو بیٹی زندہ ہے انہوں نے کئی سال پہلے یہ لکھےکر دیا ہوا ہے کہ میں نے میراث میں سے حصہ نہیں لینا۔ اس کا کیا حکم ہے؟
ملحوظہ:مذکورہ مکان کی فروخت پر پراپرٹی ڈیلر نے کچھ رقم بطور کمیشن کے لی ہے وہ کس کے ذمے لازم ہوگی؟ آیا ترکہ میں سے یعنی مکان کی کل رقم سے ادا کی جائے گی یا کوئی اور صورت ہوگی؟
صورت مسئولہ میں آپ کے پردادا نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ مال و جائیداد منقولہ و غیرمنقولہ مکان، سونا چاندی، مالِ تجارت ، کپڑے برتن اور گھریلو ساز و سامان چھوڑا وہ ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے لیکن اگر کسی نے یہ اخراجات بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو ترکہ میں سے نہیں نکالے جائیں گے۔ اس کے بعد دیکھیں گے کہ اگر مر حوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہے تو تر کہ میں سے اسے ادا کیا جائیگا۔ اس کے بعد دیکھیں گے کہ اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی کی حدتک اسے ادا کیا جائے گا۔ ان تینوں حقوق کی ادائیگی کے بعدباقی ماندہ ترکہ میں سے پراپرٹی ڈیلر کودی گئی کمیشن نکالی جائے گی۔ اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے کل دو سو باون (252) حصے کیے جائیں گے ۔ ان میں سے پردادا کا جو ایک بیٹا ابھی تک زندہ ہے اسے چوراسی (84) اور زندہ بیٹی کو بیالیس (42) حصے دیئے جائیں گے۔ اور عبد الحمید مرحوم کے ہر بچے کو چوبیس (24) حصےاور بیٹی کو بارہ (12)حصے جبکہ پر دادا کی جس بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے اس کے ہر بیٹے کو چودہ چودہ (14) اور ہر بیٹی کو سات سات (7)حصے دیئے جائیں گے۔
نیز واضح رہے کہ پردادا کی زندہ بیٹی نے پردادا کی جانب سے ملنے والے ترکہ متعینہ (یعنی مکان ) سے جو حصہ لینے سے انکار کیا اور تحریر اً لکھ کردیا ہے تو اس کا شرعا کوئی اعتبار نہیں وہ مرحوم کے ترکہ( یعنی مکان کی قیمت ) میں بدستور حصہ دار ہوں گی۔