کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جگہ چندقبریں تھیں یہ جگہ جس کی ملکیت میں تھی اب وہ وہاں مسجدبناناچاہتےہیں کیا یہ جائز ہے؟قرٓن وسنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں
کیایہ قبریں مالک کی اجازت سےبنی تھی؟۲قبریں تازہ ہیں یاپرانی؟ تفصیل سےلکھیں۔
سائل نےبتایاکہ یہ قبریں بہت پرانی ہیں ان کےنشانات مٹ کرزمین ہموارہوچکی ہے۔وہاں لوگ اکثراجازت لیکردفناتےہیں۔
سوال اورجواب ِ تنقیح سےمعلوم ہوتاہےکہ یہ قبریں بہت پرانی ہیں اورغالب سگمان یہ ہےکہ ان میں مدفون میتیں بوسیدہ ہوکرمٹی ہوچکی ہیں لہٰذا مذکورہ صورت میں اگراس جگہ مردوں کی تدفین نہیں ہورہی اوریہ جگہ کسی کی مملوکہ ہےتومالک ِ زمین اس جگہ کومسجدکےلئےوقف کرکےمسجدبناسکتاہے۔
عمدة القاري (4/ 257)رشيدية
وقال البندنيجي: والمراد أن يسوى القبر مسجدا فيصلى فوقه، وقال: إنه يكره أن يبنى عنده مسجد فيصلى فيه إلى القبر، وأما المقبرة الداثرة إذا بني فيها مسجد ليصلى فيه فلم أر فيه بأسا، لأن المقابر وقف، وكذا المسجد، فمعناها واحد
وفيه ص265
فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد. وذكر أصحابنا أن المسجد إذا خرب ودثر ولم يبق حوله جماعة، والمقبرة إذا عفت ودثرت تعود ملكا لأربابها، فإذا عادت ملكا يجوز أن يبنى موضع المسجد دارا وموضع المقبرة مسجدا وغير ذلك
الدر المختار (2/ 233)سعيد
ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه
كذا في تبيين الحقائق (1/589)دارالكتب العلمية:و الفتاوى الهندية(1/183)دارالكتب العلمية
وفتاوی محمودیہ (14/509) اداره الفاروق:و امدادالاحكام(3/286)مكتبہ دارالعلوم