پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو بڑھاپے میں پنشن دینے کےلئے حکومت کی طرف سے ایک ادارہ قائم ہے جس کا نام (ای ،او،بی،ایل)ہے اس میں ملازم اور محکمہ یا ادارہ مل کر دوران ملازمت حکومت کی مقررکردہ رقم جمع کرواتے رہتے ہیں ۔ساٹھ سال کی عمر کے بعد اسی رقم میں سے ان کو پنشن دی جاتی ہے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کی بیوی کو دی جاتی ہے، ان دونوں کے انتقال کے بعد ورثاء کو یہ پنشن نہیں ملتی ۔ نیز یہ پنشن صرف جمع شدہ رقم کی حدتک ملتی ہے اس سے زائد نہیں ملتی۔ اب پوچھنایہ ہے کہ کیا اس ادارے سے پنشن لینا یا یہ معاہدہ کرنا شرعا درست ہے۔
المبسوط لمحمد بن أحمد السرخسي (م: 483هـ)(12/ 47) دار المعرفة
اعلم بأن الهبة عقد جائز ثبت جوازه بالكتاب، والسنة. أما الكتاب فقوله تعالى: { وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها} [النساء: 86] ، والمراد بالتحية: العطية، وقيل: المراد بالتحية: السلام، والأول أظهر؛ فإن قوله: أو ردوها يتناول ردها بعينها، وإنما يتحققذلك في العطية. وقال الله تعالى: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] . وإباحة الأكل بطريق الهبة دليل جواز الهبة. والسنة: …بقوله «تهادوا تحابوا» . (دیکھئےفتاویٰ محمودیہ (۲۳/۳۴۲ )فاروقیہ۔احسن الفتاویٰ (۹/۳۰۱)اشاعت اسلام)۔