بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث

سوال

ایک عورت خدیجہ کا انتقال ہوا ہے اور انتقال کے وقت اس کا صرف ایک بھائی جمال الدین زندہ تھا۔ اسکےعلاوہ اس کے والدین ،شوہر،بیٹااور دیگر بھائی  بہن انتقال کر چکے تھے ، اس کے بعد ان کے بھائی جمال الدین کا بھی انتقال ہو گیا۔  اب جمال الدین کی اولاد کے علاوہ دیگر بھائیوں کی اولاد بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ خدیجہ کی میراث کس کو ملے  گی اور کس کو نہیں ملے گی ۔
ملحوظ: جمال الدین کی اولاد میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہیں ۔ جمال الدین کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی جبکہ جمال الدین کی بیوی اس کے انتقال سے قبل فوت ہو چکی ہے۔

جواب

نمبر ۱۔ صورت مسئولہ میں سب سے پہلے مرحومہ خدیجہ کی میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد مکان پلاٹ، سونا چاندی نقدی، مال تجارت وغیرہ جو بھی ساز و سامان چھوڑا ہے وہ سب اس کا ترکہ ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن ودفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو مرحومہ کے ترکہ میں سے یہ اخراجات نہیں نکالے جائیں گے اس کے بعد مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کیا جائے گا، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی کی حد تک اس پر عمل کریں۔  اس کے بعد جوتر کہ بچے وہ سارا کا سارا مرحومہ کے بھائی جمال الدین کو ملے گا بشرطیکہ مرحومہ کا کوئی اور شرعی وارث نہ ہو۔ نیز اس صورت میں مرحومہ کے مرحوم بھائی بہنوں کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔
نمبر ۲۔  اس کے بعد مرحوم جمال الدین نے اپنے انتقال کے وقت مذکورہ تفصیل کے مطابق جو کچھ مال اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ اور جو کچھ مرحومہ خدیجہ کی میراث سے اس کو مال ملاوہ سب اس کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق حقوق ثلاثہ یعنی تجہیز و تکفین، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد جو
کچھ مال بچے اس کے گیارہ حصے کر کے ہر بھائی کو دو(2) حصے اور بہن کو ایک(1) حصہ دیا جائے۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(6/ 773)ایچ۔ایم۔سعید
(يحوز العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها (لم يدخل في نسبته إلى الميت أنثى) فإن دخلت لم يكن عصبة كولد الأم فإنه ذو فرض وكأبي الأم وابن البنت فإنهما من ذوي الأرحام (ما أبقت الفرائض) أي جنسها (وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة۔
 قال اللہ تعالی
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
   قال اللہ تعالی
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا}[النساء: 58]
السراجی،سراج الدین السجاوندی(م:600)(ص:5)المکتبۃ البشری
قال علماؤنا:تتعلق بترکۃ المیت حقوق أربعۃ مرتبۃ:الأول:ببدأ بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر،ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ،ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ وإجماع الأمۃ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس