بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ٹیڑھے دانتوں کو سیدھا کروانا

سوال

جیسا کہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے تو میرا یہ سوال ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی دانت ٹیڑھا آجائے تو کیا وہ اسے سیدھا کرواسکتا ہے ؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگر دانت کے ٹیڑھا ہونے کی وجہ سے چہرہ بد نما معلوم ہوتا ہے تو اس دانت کو سیدھا کرنے کی شرعا اجازت ہے مذکورہ عمل اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی نہیں بلکہ یہ ازالہ عیب ہے جو شرعا ًجائز ہے۔
صحيح البخاري (2/778) محمودیة
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة»۔
الفتاوى الهندية (5/ 440) بیروت
إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير – رحمه الله تعالى – إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك۔
بذل المجہود فی سنن ابو داؤد (17-18/ 28 ) رشیدیة
المغیرات خلق اللہ قیل : النہی عن تغییر  خلق اللہ انما ہو فیما یکون باقیاً ، واما ما لا یکون باقیا کالکحل ونحوہ من التزیینات ،۔۔۔ قال ابو جعفر طبری : فی ہذا الحدیث دلیل علی انہ لایجوز تغییر شیء مما خلق اللہ المراۃ علیہ بزیادۃ او نقص التماساً للتحسین لزوج اوغیرہ ، کما لوکان لہا سن زائدۃ فازالتہا او اسنان طوال  فقطعت اطرافہا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس