ایک شخص کی چار بیٹیاں آپریشن سے ہوئی ہیں اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپریشن سے ڈلیوری کا آخر چانس ہے ، وہ چاہتاہے کہ بیٹا پیدا ہو اور اس کے لیے ٹیسٹ ٹیوب کےذریعے بیٹالانا چاہتاہے ۔ کیا شرعاً اس کی گنجائش ہے؟
مذکورہ طریقہ علاج کو درج ذیل شرائط کے ساتھ اختیار کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
نمبر ۱۔۔نطفہ میاں کا اور بیضہ بیوی کا ہو کسی اور سے نہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ اس شعبہ کے معالجین خیانت سے بھی کام لیتے ہیں ، جراثیم کسی دوسرے مرد کے یا بیضہ کسی دوسرے عورت کا استعمال کرتےہیں ایسا کرنا حرام ہے اس لیے جب تک پورا اطمینان نہ ہو یہ علاج نہ کروائیں۔
نمبر ۲۔۔ اس کاروائی کےلیے مرد کو مرد ڈاکٹر جبکہ خاتون کو خاتون ڈاکٹر ہی ڈیل کرے۔
نمبر ۳۔۔ شوہر کے ماد ہ تولید کی تلقیح خود اسی کی بیوی کے رحم میں ہو یا بیوی کے مادہ تولید کے اختلاط سے تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب بےبی کو اسی کی بیوی کےرحم میں داخل کیا جائے نہ کہ کسی اور اجنبی عورت کےرحم میں ۔
نمبر ۴۔۔ اس مرحلے میں ستر وحجاب کا پورا پورا خیا ل رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولاجائے۔
نمبر ۵۔۔ میاں بیوی دونوں کی رضامندی ہوتو یہ عمل کیا جائے۔
سوال میں ذکرکردہ ضرورت کی بناپر اس عمل کی گنجائش ہے بشرطیکہ ذکر کردہ شرائط کا مکمل لحاظ رکھا جائےبالخصوص میاں بیوی کے اپنے مادہ تولید سے ہی تلقیح اور تعیین جنس کا عمل لازم وضروری ہے۔
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ أَزْكٰى لَهُمْ [النور: 30]
قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ»
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2649)
التلقيح الصناعي هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية
رد المحتار على الدر المختار (3/ 528)
البحر عن المحيط ما نصه: إذا عالج الرجل جاريته فيما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماءه في شيء فاستدخلته في فرجها في حدثان ذلك فعلقت الجارية وولدت فالولد ولده، والجارية أم ولد له اهـ
رجل عالج جاريته فيما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماءه في شيء فاستدخلته في فرجها فعلقت عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى- أن الولد ولده وتصير الجارية أم ولد له، كذا في فتاوى قاضي خان