میں اپنے بیٹے کا داخلہ جس اسکول میں کروانا چاہتاہوں وہاں کے قوانین کے مطابق اسکول یونیفارم میں پینٹ شرٹ کے ساتھ ٹائی پہننا بھی لازمی ہے ،ایسی صورت ِحال میں میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے کہ میں پہلے اسکول کے مالکان سے بات کروں کہ آپ اپنے اسکول سے ٹائی پہننے کی شرط ختم کردیں؟ یااپنے صاحب زادے کا داخلہ کسی اور اسکول میں کراؤں،جبکہ یہ اسکول میرے گھر کے بہت قریب بھی ہے اور اس کی فیس بھی بہت مناسب ہے اور اس اسکول کا تعلیمی معیار بھی بہت بہتر ہے؟
ٹائی غیر مسلموں کے لباس کا طریقہ ہے ۔اگر ادارہ یا حکومت کی طرف سے پابندی ہو ، نہ لگانے پر سزا دی جاتی ہو ، یا اس کے بغیر داخلہ نہ دیا جاتا ہو یا اور کوئی سختی کی جاتی ہو تو اس صورت میں لگانے والے پر گناہ نہ ہوگا بلکہ اس ادارے یا حکومت کے ارکان پر گناہ عائد ہوگا جس نے ایسا ضابطہ بنایا ہے ۔ اس لیے صرف ضرورت کی حد تک ٹائی لگانے کی گنجائش ہے۔
مرقاۃ المفاتیح(8/255):مکتبه امدادیه ملتان
وعنہ ّ (عن ابن عمر رضی اللہ عنھما)قال:قال رسول اللہ ﷺ ًمن تشبہ بقوم ٍای من تشبه نفسه بالکفار مثلا فی اللباس و غیرہ ،او بالفساق او الفجار۔ اوباھل التصوف والصلحاءالابرار ًفھو منھم ًای فی الاثم والخیر
موسوعة القواعد الفقھیة(1/120:مؤسسة الرسالة)
الامور بمقاصدھا یعنی ان الحکم الذی یترتب علی امر یکون علی مقتضی ما هو المقصود من ذلك الامر
شرح المجلة(1ْ56):مكتبه رشيدية
(الضرورات تتقدر بقدرها) يعني كل فعل او ترك جوز للضرورة، فالتجويز علي قدرها، ولا يتجاوز عنها