دوکاندار کا مذکورہ چیز تیس ہزار میں فروخت کرنا درست ہے البتہ اس پوری رقم کامالک مؤکل ہے اس لیے دوکاندار پر لازم ہے کہ مؤکل (مبیع کےمالک )کواس چیز کی پوری رقم (یعنی تیس ہزار روپے) ادا کرے اضافی رقم یعنی دس ہزار روپے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ۔البتہ فروخت کرنے کی خدمت کے عوض اجرت طے کر کے لینا درست ہے۔
فتاوی ہندیہ (3/542) دارالکتب العلمیہ بیروت
ولو وکلہ بان یبیعہ بالف درہم فباعہ باکثر نفذ البیع ۔
البحر الرائق (7/285) رشیدیة
وإن أمره أن يبيعه بشيء معين فباعه بغيره أو بأقل منه لم يجز في قولهم وإن باعه بأكثر منه من ذلك الجنس جاز۔
فتاوی ہندیہ (3/521)دارالکتب العلمیۃ
واما حکمہا ۔۔۔قیام الوکیل مقام الموکل فیما وکلہ بہ ۔
شرح مجلہ الاحکام (3/573) المادہ1467
اذا شرطت الاجرۃ فی الوکالۃ واوفا ھا الوکیل استحق الاجرۃ،وان لم تشترط ولم یکن الوکیل ممن یخدم بالاجرۃ کان متبرعا فلیس ان یطالب با لاجرۃ۔
شرح مجلہ (3/550)المادہ 1461
ولایشترط اضافۃ العقد الی الموکل فی البیع والشراء والاجارۃ والصلح من اقرار،فان لم یضفہ ای موکلہ ،واکتفی باضافتہ الی نفسہ صح ایضا وعلی کلتاالصورتین لا تثبت الملکیۃا لا لموکلہ ۔