بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ولادت کےموقع پرخاتون ڈاکٹرکی موجودگی میں شوہرکابیوی کے پاس جانا

سوال

آج کل ہسپتال میں ایساہوتاہےکہ جب بچےکی ولادت ہوتی ہےتواس عورت کےساتھ شوہر کےجانےکی بھی اجازت ہوتی ہےحالانکہ لیڈی ڈاکٹر بھی اس کمرہ کےاندرموجود ہوتی ہے۔آیاشوہرکالیڈی ڈاکٹر کی موجودگی میں بیوی کےساتھ جاناجائزہےیانہیں؟اگرجائزہےتوکیوں اوراگرناجائزہےتوکیوں؟

جواب

صور ت ِمسئولہ میں شوہرکےلئےبلاضرورت ولادت کےوقت کمرےمیں جانادرست نہیں ۔ کیونکہ ایساکرنا حیاءکےتقاضے کےخلاف ہے۔ البتہ اگربأمرِمجبوری شوہرکوکمرےمیں جاناپڑےتواس شرط کےساتھ جاسکتاہےکہ جوان  خواتین  ڈاکٹرز کودیکھنےسےنگاہ کومحفوظ رکھےاوران کےساتھ ضرورت سےزائدبات چیت نہ کرے۔ نیزجب کمرےمیں رہنےکی ضرورت نہ رہےتوفوراً کمرےسےباہرآجائے۔
رياض الصالحين،العلامة النووي(م:676هـ)(229)الرسالة بيروت
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الأنصار وهو يعظ أخاه في الحياء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”دعه فإن الحياء من الإيمان “۔
بدائع الصنائع،العلامة علاء الدين الكاساني(م:587هـ)(6/492)دارالكتب العلمية
والأفضل للشاب غض البصر عن وجه الأجنبية۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088هـ)(1/299)رشيدية
 (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة۔

 دیکھئے فتاوی عثمانی ،مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ(4/237)معارف القرآن كراچی۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس